میں عمرہ ادا کر رہا تھا ،میں سر منڈوانا بھول گیا اور احرام بھی تبدیل کر لیا، مجھے چوٹ لگی جس سے خون نکل آیا، اور میں طواف کے بعد دو رکعت سنت بھی ادا نہ کر سکا، براہِ کرم بتائیں کہ مجھ پر کتنا دَم لازم آئے گا؟
واضح ہو کہ عمرہ کے احرام سے نکلنے کے لئے پورے سر کے بال منڈوانا سنت اور ایک چوتھائی کے بقدر بال کاٹنا واجب ہے ، بغیر حلق یا قصر کئے محض احرام کی چادریں اتارنے سے شرعاً احرام کی پابندیاں ختم نہیں ہوئی، لہٰذا صورت مسئولہ میں اولاً سائل کو حلق یا قصر اور طواف کے دوگانہ نفل کا اہتمام کرنا لازم ہے، ثانیاً جب سائل نے حلق یا قصر کیے بغیر سلے ہوئے کپڑے پہن لیے ہیں اور اس پر 12 گھنٹے سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، تو اس کی وجہ سے اس کے ذمہ ایک دم لازم ہو چکا ہے جس کو حدود حرم میں دینا لازم ہوگا، اسی طرح اگر سائل نے لاعلمی کی وجہ سے سلے ہوئے کپڑے پہننے کو احرام سے نکلنے کا ذریعہ نہ سمجھا ہو بلکہ مسئلہ معلوم ہونے کے باوجود محض بھول جانے کی وجہ سے حلق یا قصر چھوڑ دیا ہو، تو ایسی صورت میں حلق یا قصر کرنے تک انہوں نے جتنے ایسے جنایات کیے ہوں جس پر مستقل دم آتا ہو تو اس کے ذمہ ہر جنایات کے بدلے مستقل دم کی ادائیگی لازم ہوگی۔
کما فی غنية الناسك: ومن الواجبات ركعتا الطوفان ويستحب مؤكدا ادائها خلف المقام (الى قوله) لا فضيلة بعد الحرم بل الاساءة ولا تختص بزمان، ولا مكان، فلو صلاها خارج الحرم ولو بعد الرجوع الى وطنه جاز وكره تنزيهاولا تفوت مادام حیا الخ۔ (ص: 116، ط: الإمدادیة)۔
وفی بدائع الصنائع : أما الأول فالحلق أو التقصير واجب عندنا إذا كان على رأسه شعر لا يتحلل بدونه، (الی قولہ) فدل أن الحلق أو التقصير، واجب، لكن الحلق أفضل؛ لأنه روي أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - «دعا للمحلقين ثلاثا، وللمقصرين مرة واحدة (الی قولہ) وأما مقدار الواجب، فأما الحلق فالأفضل حلق جميع الرأس لقوله عز وجل {محلقين رءوسكم} [الفتح: 27] ، والرأس اسم للجميع. (الی قولہ) ولو حلق بعض الرأس، فإن حلق أقل من الربع لم يجزه، وإن حلق ربع الرأس أجزأه، ويكره . أما الجواز فلأن ربع الرأس يقوم مقام كله في القرب المتعلقة بالرأس كمسح ربع الرأس في باب الوضوء. (الی قولہ) وأما الكراهة فلأن المسنون هو حلق جميع الرأس لما ذكرنا، وترك المسنون مكروه الخ۔ (کتاب الحج،ج: 2،ص: 140،ط: دارالکتب)۔
و فی ردالمحتار : قال في اللباب: واعلم أن المحرم إذا نوى رفض الإحرام فجعل يصنع ما يصنعه الحلال من لبس الثياب والتطيب والحلق والجماع وقتل الصيد فإنه لا يخرج بذلك من الإحرام، وعليه أن يعود كما كان محرما، ويجب دم واحد لجميع ما ارتكب ولو كل المحظورات، وإنما يتعدد الجزاء بتعدد الجنايات إذا لم ينو الرفض، ثم نية الرفض إنما تعتبر ممن زعم أنه خرج منه بهذا القصد لجهله مسألة عدم الخروج، وأما من علم أنه لا يخرج منه بهذا القصد فإنها لا تعتبر منه الخ۔ (کتاب الحج،ج: 2،ص: 553،ط: سعید)۔
وفیہ ایضا: (أو حلق في حل بحج) في أيام النحر، فلو بعدها فدمان (أو عمرة) لاختصاص الحلق بالحرم (لا) دم (في معتمر) خرج (ثم رجع من حل) إلى الحرم (ثم قصر) وكذا الحاج إن رجع في أيام النحر وإلا فدم للتأخير (قوله أو حلق في حل بحج أو عمرة) أي يجب دم لو حلق للحج أو العمرة في الحل لتوقته بالمكان، وهذا عندهما خلافا للثاني الخ۔ (کتاب الحج،ج: 2،ص: 554،ط: سعید)۔