عورت پر بھی عمرہ سنت مؤکدہ ہے؟ جس پر سنت مؤکدہ ہو اور ادائیگی نہ ہوسکی، تو ذمہ پر قضاء لازم ہے اور مر نے کے بعد بھی مجرم ٹھہرے گایا صرف گناہ سرزد ہو ا؟ حج کی فرضیت: ایام حج میں رقم موجود ہو، اخراجات یا سال کے کسی بھی وقت رقم آئیں : زید کے پاس تجارت کا یا پنشن وغیرہ کی رقم آئی، لیکن آج تک وہ نہ رہی، تو اس صورت میں حج کی فرضیت ساقط ہو گی یا حج کے ایام میں رقم نہ ہو نے کے باوجود بھی حج سابقہ موجود رقم کے سبب فرض ہو گی ۔جواب مطلوب ہے ۔جزاک اللہ!
واضح ہو کہ مسلمان مرد اورعورت پراگر استطاعت ہو، تو زندگی میں ایک با ر عمرہ ادا کر نا سنت مؤکدہ ہے ،لہذا اگر کسی نے بلا عذر یا کو تا ہی کی وجہ سےاستطاعت کے باوجود ترک کر دیا ہو، تو اگرچہ اس کی قضاء تولازم نہیں ہے، لیکن سنت مؤکدہ کو چھوڑنا اس کے لیےباعث ملامت ہو گا ۔
جبکہ حج اس شخص پر فرض ہو تا ہے ،جس کے پاس موسم ِحج (یعنی ان ایام میں جس میں حج کی درخواستیں قبول کی جاتی ہیں)میں زندگی کی بنیادی ضروریات کےاخراجات ،نیز اہل و عیال کے واجبی خرچے پورےکرنے کے بعد ، اس قدر مال ہو، جس سے حج کے ضروری اخراجات پورے ہو سکتے ہوں ،لہذا سوال میں مذکور شخص کے پاس ایام ِحج سے پہلے رقم موجود تھی ،لیکن ایام حج میں اتنی رقم باقی نہ رہی ہو، تو اس پر حج کی ادائیگی لازم نہ ہو گی اور سابقہ رقم کی وجہ سے اس پر حج کی فرضیت بھی لاگو نہ ہو گی۔
كما في غنية الناسك: السابع الوقت اي وجود القدرة فيه وهو الاشهر الحج او وقت خروج اهل بلده ان كانوا يخرجون قبلها فلا يجب الا على القادر فيها او في وقت خروج اهل بلده فان ملك المال قبل الوقت فله صرفه حيث شاء لكن ان صرفه على قصد حيلة اسقاط الحج فمكروه عند محمد ولا باس عند ابي يوسف وان ملكه في الوقت فليس له صرفه الى غير الحج على القول بالفور فلو صرفه لا يسقط عنه الوجوب على القولين وان ملك في وقت لا يقدر على اداء الحج قال الفارسي في منسكه والاظهر انه لا يجب اھ( 22)
وفيها ايضا: وهي في العمرة سنة مؤكدة لمن استطاع هو المذهب وقيل واجب وصححه قاضي خان وصاحب الجوهرة اھ (192)