متفرقات

قادیانی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
89112
| تاریخ :
0000-00-00
آداب / تعلیم و تعلم / متفرقات

قادیانی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کا حکم

معزز علما ءِکرام!السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ تمام حضرات کو خیر و عافیت کے ساتھ اپنے دینی فرائض سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے،میں نہایت ادب اور انکساری سے آپ کی خدمت میں ایک نہایت نازک اور فوری نوعیت کے مسئلے پر شرعی رہنمائی کی درخواست پیش کر رہا ہوں، جو حال ہی میں ضلع مردان میں پیش آیا ہے اور جس کے باعث علاقے میں امن و امان کی فضا متاثر ہونے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ مردان میں ایک خاندان کے بارے میں مقامی علما ء نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ قادیانی (احمدی) عقائد سے وابستہ ہے، تاہم مذکورہ خاندان نے اس نسبت کو صریحاً مسترد کیا ہے اور اصرار کیا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور اسلام کے بنیادی عقائد پر کاربند ہیں، گزشتہ شب اس خاندان کے ایک فرد کا انتقال ہوا اور ان کے اہل خانہ نے ان کی تدفین مقامی مسلم قبرستان میں کرنے کی کوشش کی، اس پر مقامی علما ء نے مخالفت کی اور اجتماع کر کے مؤقف اختیار کیا کہ قادیانی فرقے سے وابستہ افراد کی تدفین مسلمانوں کے قبرستان میں شرعاً جائز نہیں، علماءنے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس خاندان کے کئی دیگر افراد بھی، جو تقریباً سترہ برس قبل (2008 میں) اسی قبرستان میں دفن کیے گئے تھے، اسی فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔
مقامی علما کی جانب سے درج ذیل مطالبات پیش کیے گئے ہیں:
قادیانیوں کی مسلمانوں کے قبرستان میں تدفین کو سختی سے ممنوع قرار دیا جائے اور اس حوالے سے حکومت کی جانب سے واضح احکامات جاری کیے جائیں۔
اس خاندان کے ان تمام افراد کی قبریں جن کی تدفین 17 برس قبل کی گئی تھی، نکالی جائیں اور انہیں کسی دوسرے مقام پر منتقل کیا جائے۔
قادیانی خاندانوں کو الگ زمین خریدنے کی ہدایت دی جائے تاکہ وہ اپنے مردوں کی تدفین کیلئے علیحدہ قبرستان قائم کریں اور مسلمانوں کے قبرستانوں کو استعمال نہ کریں۔
اس نازک صورت حال کے تناظر میں، درج ذیل اہم سوالات پر آپ کی بصیرت افروز اور شرعی رہنمائی درکار ہے:
(1)۔اسلامی شناخت کی تصدیق: جب کوئی خاندان کھلے عام اسلام کے عقائد کا اقرار کرتا ہو اور خود کو مسلمان کہتا ہو، جبکہ مقامی علما ءاس دعوے کو مسترد کرتے ہوں اور انہیں قادیانی قرار دیتے ہوں، تو ایسے میں کسی فرد یا خاندان کی مذہبی شناخت کے تعین کا بااختیار اور شرعی مجاز ادارہ یا طریقہ کار کون سا ہے؟
(2)۔مدتِ طویل کے بعد قبور کی نکاسی: شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں، کیا ایسے افراد کی قبروں کو نکالنا جائز ہے جن کی تدفین کو تقریباً سترہ برس گزر چکے ہوں؟ اس امر کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ ان قبروں کے وجود سے پورا علاقہ واقف تھا، مگر اس طویل عرصے میں کبھی کسی نے اعتراض یا مخالفت نہیں کی۔ یہ مطالبہ پہلی بار اب سامنے آیا ہے، جب مذکورہ خاندان کے ایک اور فرد کی حالیہ وفات کے بعد تدفین کا مرحلہ پیش آیا۔ اس پس منظر میں یہ جاننا ضروری ہے کہ کیا شریعت ایسے حالات میں پرانی قبروں کی نکاسی کی اجازت دیتی ہے؟ اور اس ضمن میں فقہی اصولات اور سابقہ نظائر کیا ہیں، بالخصوص جب وجہ صرف عقیدے کے شبہات پر مبنی ہو؟
(3)۔قادیانیوں کی تدفین سے متعلق عمومی شرعی مؤقف: مختلف مکاتبِ فکر کی روشنی میں قادیانیوں کی مسلمانوں کے قبرستان میں تدفین کے بارے میں کیا اجماعی یا اکثریتی شرعی مؤقف موجود ہے؟ کیا یہ مؤقف اس بنیاد پر بدلتا ہے کہ کوئی فرد اپنے عقائد کو خفیہ رکھتا ہو یا صرف زبانی طور پر اسلام کا دعویٰ کرتا ہو؟
ہم آپ سے مخلصانہ استدعا کرتے ہیں کہ اس نازک مسئلے میں فوری، مدلَّل اور شرعی بنیاد پر رہنمائی فرمائیں تاکہ ہم ایک حساس معاملے کو دانش مندی سے حل کر سکیں، مقامی سطح پر امن و ہم آہنگی کو برقرار رکھا جا سکے اور عوامی جذبات کو مشتعل ہونے سے بچایا جا سکے،اللہ تعالیٰ ہمیں عدل و انصاف، ہمدردی اور حکمت کے ساتھ فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کسی مسلمان کو کافر یا کافرکو مسلمان کہنا دونوں جانب سے نہایت ہی سخت معاملہ ہے، قرآنِ کریم نے دونوں صورتوں پر شدیدنکیر فرمائی ہے،لہذا کسی بھی مسلمان پربغیرکسی شرعی دلیل کے کافرہونے کاحکم لگانا،اس کوکھیل بنالیناسخت گناہ اورحرام ہے،ایمان کے لئے بھی خطرناک ہے،اس سے آدمی کااپنادین وایمان سلامت نہیں رہتا، اسی طرح کسی کافر کو مسلمان کہہ دینا ایک لفظی سخاوت کے علاوہ پوری ملت کے معاشرہ کے متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ اس ملت اور اسلامی معاشرہ پر ظلمِ عظیم ہے، اسی وجہ سے سلفِ صالحین صحابہ وتابعین اور مابعد کے ائمہ مجتہدین نے اس معاملہ میں بڑی احتیاط سے کام لینے کی ہدایتیں فرمائی ہیں، حضراتِ متکلمین نے اس باب کو نہایت اہم اور دشوار گزار سمجھا ہے اور اس میں داخل ہونے والوں کیلئے بہت زیادہ تیقظ و بیداری کی تلقین فرمائی ہے، لہذا جو شخص اپنے آپ کو مسلمان اور اپنا اسلام ظاہر کرے تو جب تک اس کے کفر کی پوری تحقیق نہ ہوجائے اس کو کافر کہنا ناجائز اور وبال عظیم ہے، اس لئے کسی کے قول و فعل پر اس کی تطبیق صرف ماہر اہلِ فتوی ہی کا کام ہے، عوام یا کسی اور کیلئے از خود فیصلہ کرنا یا پھر کسی کو کافر قرار دینا ہر گز جائز ودرست نہیں، لہذا بنیادی طور پر کوئی بھی مسلمان اقرارِ شہادتین کے بعد جب تک اعلانیہ طور پرآسمانی قانون کو دِل سے تسلیم کرنے اور دین اسلام پر عمل پیرا رہےتو اسے مسلمان ہی سمجھا جائے گا، اور اگروہ اس قانونِ الٰہی کے کسی قطعی حکم کا انکار کر بیٹھے،یا دین کے کسی قطعی اور یقینی حکم میں ایسی تاویلات باطلہ کرے جو ان کے اجماعی مفہوم کو بدل دیں ، اور امت کے اجماعی عقائد کے خلاف کوئی نیا مفہوم ان سے پیدا ہو تو وہ بلاشبہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے(کذا فی جواہر الفقہ)۔
اس تمہید کے بعد سائل کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:
(1)۔ درج بالا تفصیل کے مطابق اگر کوئی شخص/خاندان کے افراد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت،نبی کریم ﷺ کی رسالت، ختمِ نبوت اور اعلانیہ طور پر اسلام کے متفقہ اور قطعی عقائد کا اعلانیہ طور پر اقرار کرتے ہوئےدینِ اسلام پر عمل پیرا ہو ، اور کسی حکمِ قطعی اور ضروریاتِ دین کا عمداً انکار اور اس میں تاویلاتِ باطلہ نہ کرتا ہواور نہ ہی وہ مرزا قادیانی کو نبی اور اس کے دعاوی باطلہ کو سچا جانتا اور مانتا ہو تو ایسی صورت میں وہ شخص بلاشبہ مسلمان ہے،انہیں بغیر کسی ثبوت اور بلادلیلِ شرعی محض شبہات کی بناء پر کافر اور قادیانی قرار دینا اور ان کا مذہبی شناخت متنازع بنانا شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر کسی فرد کا پنے آپ کو مسلمان قرار دینے کے باوجود ان کے کسی قول یا فعل سےاس کے کفر و ارتداد کا اندیشہ ہونے لگے تو ایسی صورت میں عوام یا کسی فرد اور جماعت کے بجائے مستند دارالافتاء سے ان کے عقائد و نظریات سے متعلق حکم معلوم کرکے تحقیق و تصدیق کے بعد مجاز اداروں اور عدالت کے ذریعہ اس کی شناخت ڈکلیئر کرنا چاہیئے تاکہ یہ عمل عام عوام میں فتنہ فساد اور انتشار کا سبب نہ بنے۔
(2)۔ کسی میت کو قبر میں دفنانے اور اس پر مٹی ڈالنے کے بعدبلاعذرِ شرعی اس میت کو قبر سے نکالنا شرعاً جائز نہیں ،بلکہ یہ میت کی بے حرمتی ہے، لہذا مذکورہ خاندان کے جن افراد کا انتقال سترہ برس قبل ہوا ہے اور وہ مسلمانوں کی قبرستان میں مدفون ہیں،اگر وہ اپنے آپ کو اعلانیہ طور پر مسلمان ظاہر کرتے تھے اور اس وقت کے علماء نے انہیں مسلمان سمجھ کر ان کی نمازِ جنازہ ادا کرکے باقاعدہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کردیا ہے تو اب محض مذکورہ خاندان کے حالیہ فوت شدہ متنازع فرد کی وجہ سے ان کے دیگر فوت شدہ افراد پر قادیانیت کا ٹھپہ لگانا اور محض ان کے قادیانی ہونے کے شبہ کی بنیاد پر انہیں وہاں سے نکالنا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر تحقیق اور دلائلِ شرعیہ سے حالیہ فوت شدہ فرد سمیت خاندان کے دیگر افراد کا قادیانی ہونا ثابت ہوجائے تو ایسی صورت میں چونکہ وہ کافر و مردتد ہیں اور کسی کافر کو مسلمانوں کو قبرستان میں دفن کرنا شرعاً جائز نہیں تھا، لیکن اگر دفن کردیا گیا ہے تو اس نعش کے تازہ اور صحیح و سلامت ہونےاور نعش نکالنے کی صورت میں فتنہ و فساد کا اندیشہ نہ ہو تو اسے مسلمانوں کی قبرستان سےنکال کر کسی ویران جگہ میں گڑھا کھود کر اس میں ڈالا جائیگا،البتہ اگر دفنانے کے بعدنعش متعفن زدہ ہونے کا غالب گمان ہو یادفنانے کے بعد عرصہ دراز گر چکا ہو یا اس کی نعش نکالنے کی صورت میں علاقہ میں فتنہ و فساد برپا ہونے کا اندیشہ ہو تو تکلیف اوراختلاف سے بچنے کی خاطر بہتر صورت یہ ہے کہ ان کے قبروں کے نشانات کو مٹاکر زمین سے ہموار کیا جائے ۔
(3) ۔ اسلامی تاریخ میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے قبرستان ہمیشہ سے الگ رہے ہیں، اور ایک مسلمان کے اسلامی حقوق میں سے ایک حق ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا بھی ہے، جبکہ ائمۂ اربعہ کی تصریحات کے مطابق کسی بھی غیر مسلم کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا شرعاً جائز نہیں، لہذا قادیانی بھی چونکہ باجماعِ امت، کافر، مرتد اور زندیق ہیں، اس لئے کسی بھی قادیانی(بشرطیکہ اس کا قادیانی ہونا ثابت ہوجائے) کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی: ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَتَبَيَّنُواْ وَلَا تَقُولُواْ لِمَنۡ أَلۡقَىٰٓ إِلَيۡكُمُ ٱلسَّلَٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنٗا تَبۡتَغُونَ عَرَضَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا فَعِندَ ٱللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٞۚ كَذَٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبۡلُ فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ فَتَبَيَّنُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٗاﵞ (النساء:94)۔
وقال تعالیٰ: ﵟأَتُرِيدُونَ أَن تَهۡدُواْ مَنۡ أَضَلَّ ٱللَّهُۖ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ سَبِيلٗا إلخ(النساء: 88)۔
وفی صحیح البخاری: عن أنس قال: قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة، فنزل أعلى المدينة في حي يقال لهم بنو عمرو بن عوف، فأقام النبي صلى الله عليه وسلم فيهم أربع عشرة ليلة (إلی قولہ) قال أنس: فكان فيه ما أقول لكم، قبور المشركين، وفيه خرب، وفيه نخل، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بقبور المشركين فنشبت، ثم بالخرب فسويت، وبالنخل فقطع، فصفوا النخل قبلة المسجد، وجعلوا عضادتيه الحجارة، وجعلوا ينقلون الصخر وهم يرتجزون، والنبي صلى الله عليه وسلم معهم، وهو يقول:
اللهم لا خير إلا خير الآخرة … فاغفر للأنصار والمهاجرة إلخ۔
قال السھارنفوری فی حاشیتہ تحت: (قولہ لقول النبیﷺ إلخ) ومن اتخذ أمکنۃ قبورھم مساجد بأن تنبش وترمی عظامھم، فھذا یختص بالأنبیاء ویلتحق بھم بأتباعھم، وأما الکفرۃ فإنھم لاحرج فی نبش قبورھم إذ لا حرج فی إھانتھم إلخ(کتاب الصلاۃ، باب ھل ینبش قبور مشرکی الجاھلیۃ إلخ، ج: 1، ص: 237، ط: البشری)۔
وفی صحیح مسلم: عن عبد اللہ بن دینار أنہ سمع ابن عمر رضی اللہ عنہ یقول: قال رسول اللہ ﷺ : ((أیما امرئ قال لأخیہ: کافر، فقد باء بھا أحدھما إن کان کما قال، وإلا رجعت علیہ إلخ( کتاب الإیمان، باب بیان حال إیمان من قال لأخیہ المسلم یاکافر، ج:1، ص: 116، ط: البشری )۔
وفی إکفار الملحدین فی ضروریات الدین: حتى سأل الفقيه عبد الحق الإمام أبا المعالي فاعتذر بأن إدخال كافر في الملة وإخراج مسلم عنها عظيم في الدين. قال: وقد توقف قبله القاضي أبو بكر الباقلاني، وقال: لم يصرح القوم بالكفر وإنما قالوا أقوالاًَ تؤدي إلى الكفر، وقال الغزالي في كتاب "التفرقة بين الإيمان والزندقة": الذي ينبغي الاحتراز عن التكفير ما وجد إليه سبيلاً، فإن استباحة دماء المصلين المقرين بالتوحيد خطأ، والخطأ في ترك ألف كافر في الحياة أهون من الخطأ في سفك دم لمسلم واحد إلخ(عبارات من فتح الباری إلخ، ص: 37، ط: المجلس العلمی۔باکستان)۔
وفی حاشية ابن عابدين (رد المحتار): لكن صرح في كتابه المسايرة بالاتفاق على تكفير المخالف فيما كان من أصول الدين وضرورياته: كالقول بقدم العالم، ونفي حشر الأجساد، ونفي العلم بالجزئيات، ( الی قولہ) لأنه إذا بناه على تأويل دليل من كتاب أو سنة كان في زعمه إتباع الشرع لا معارضته ومنابذته، بخلاف غيره إلخ(کتاب الجھاد، باب البغاۃ، ج: 4، ص: 263، ط: سعید)۔
وفی الدر: (ويغسل المسلم ويكفن ويدفن قريبه) كخاله (الكافر الاصلي) ‌أما ‌المرتد ‌فيلقى في حفرة كالكلب (عند الاحتياج) فلو له قريب فالاولى تركه لهم (من غير مراعاة السنة) فيغسله غسل الثوب النجس ويلفه في خرقة ويلقيه في حفرة إلخ۔
وفی الرد تحت: (قولہ قوله فيلقى في حفرة) أي ولا يغسل، ولا يكفن؛ ولا يدفع إلى من انتقل إلى دينهم بحر عن الفتح إلخ(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج: 2، ص: 230، ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: يعلم مما هنا حكم الدروز والتيامنة فإنهم في البلاد الشامية يظهرون الإسلام والصوم والصلاة مع أنهم يعتقدون تناسخ الأرواح وحل الخمر والزنا وأن الألوهية تظهر في شخص بعد شخص ويجحدون الحشر والصوم والصلاة والحج، ويقولون المسمى به غير المعنى المراد ويتكلمون في جناب نبينا صلى الله عليه وسلم كلمات فظيعة(إلی قولہ) ونقل عن علماء المذاهب الأربعة أنه لا يحل إقرارهم في ديار الإسلام بجزية ولا غيرها، ولا تحل مناكحتهم ولا ذبائحهم، وفيهم فتوى في الخيرية أيضا فراجعها إلخ(باب المرتد، ج: 4، ص: 244، ط: سعید)۔
وفی الأشباہ والنظائر: ‌وإذا ‌مات ‌أو ‌قتل ‌على ‌ردته لم يدفن في مقابر المسلمين ولا أهل ملته وإنما يلقى في حفرة كالكلب والمرتد أقبح كفرا من الكافر الأصلي إلخ(باب الردۃ، ص: 159، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
وفیہ أیضاً: فقال الحاكم في الكافي من كتاب التحري: وإذا اختلط ‌موتى ‌المسلمين، وموتى الكفار فمن كانت عليه علامة المسلمين صلي عليه، ومن كانت عليه علامة الكفار ترك (إلی قولہ) وإن كان الفريقان سواء أو كانت الكفار أكثر لم يصل عليهم، ويغسلون، ويكفنون، ويدفنون في مقابر المشركين إلخ(فصل: إذا تعارض المانع، والمقتضي فإنه يقدم المانع، ص: 101، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی المجموع شرح المھذب: {ولا يدفن كافر في مقبرة المسلمين ولا مسلم في مقبرة الكفار}، {الشرح} اتفق أصحابنا رحمهم الله على أنه ‌لا ‌يدفن ‌مسلم ‌في ‌مقبرة ‌كفار ولا كافر في مقبرة مسلمين إلخ(کتاب الجنائز، باب حمل الجنازۃ والدفمن، ج: 5، ص: 585، ط: إدارۃ الطباعۃ المنیریۃ إلخ)۔
وفی المغنی لابن قدامۃ: مسألة؛ قال: (وإذا ماتت نصرانية، وهى حامل من مسلم، دفنت بين مقبرة المسلمين ومقبرة النصارى اختار هذا أحمد؛ لأنها كافرة، لا تدفن في مقبرة المسلمين، فيتأذوا بعذابها، ولا في مقبرة الكفار؛ لأن ولدها مسلم فيتأذى بعذابهم، وتدفن منفردة إلخ(کتاب الجنائز، ج: 3، ص: 513، ط: دار عالم الکتب)۔
وفی الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ: والأصل أن الميت يدفن في مقابر المسلمين إذا كان مسلما، وفي مقابر الكفار إذا كان كافرا، ولهذا صرح المالكية - وهو قول عند الحنفية - بأن الحامل الكافرة تدفن في مقبرة الكفار ولو كان في بطنها جنين من مسلم بشبهة، أو نكاح كتابية، أو مجوسية أسلم زوجها؛ وذلك لعدم حرمة جنينها حتى يولد صارخا وقال الشافعية والحنابلة، وهو قول واثلة بن الأسقع: تدفن بين مقابر المسلمين والكفار؛ لأنها كافرة ‌لا ‌تدفن ‌في ‌مقبرة ‌المسلمين فيتأذوا بعذابها، ولا في مقبرة الكفار؛ لأن ولدها مسلم فيتأذى بعذابهم إلخ(احکام الحامل، دفن الحامل، ج: 16، ص: 280، ص: وزارۃ الاوقاف والشئون الإسلامیۃ۔الکویت)
وفی الفتاوی اللجنۃ الدائمۃ: يجب دفن موتى المسلمين في مقبرة مستقلة لهم، ولا يجوز دفنهم في مقابر غير المسلمين(إلی قولہ) ومن ذلك يظهر أنه يجب تخصيص مكان لدفن موتى المسلمين في مقبرة خاصة بهم إلخ(تتمۃ کتاب الجنائز، دفن المیت، ج: 9، ص: 6، ط: رئاسۃ إدارۃ البحوث العلمیۃ والإفتاء)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق شیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89112کی تصدیق کریں
0     20
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • CoEducation-مخلوط تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   متفرقات 1
  • سورۃ فاتحہ کے مکمل ہونے پر آمین کہنا

    یونیکوڈ   اسکین   متفرقات 0
  • غیر مسلم ملک میں پڑھائی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   متفرقات 0
  • شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا بطور کرامت بیک وقت مختلف مقامات میں موجود ہونا

    یونیکوڈ   اسکین   متفرقات 0
  • ماہواری میں قرآن چھوئے بغیر انٹر نیٹ سے قرآن حفظ کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   متفرقات 0
  • استاد کا خود کرسی پر بیٹھ کر زمین پر بیٹھے قرآن پڑھنے والے طلباء کو پڑھانا

    یونیکوڈ   متفرقات 1
  • عورت کے لیے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا

    یونیکوڈ   متفرقات 1
  • فقہ حنفی اور فتویٰ کی مستند کتابیں

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • میت کی اولاد اور اس کے اعزہ و اقرباء کے علاوہ کا اس کے لۓ ایصالِ ثواب کرنا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • اولیاء اللہ سے گناہ سرزد ہونا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • مسلمان لڑکی کا قادیانی بچوں کو انکے گھر میں پڑھانے جانا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • عورت کے فتوے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • وہ شخص جس کے مرنے سے درختوں اور جانوروں تک کو سکون ملتا ہے

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • ’’ض‘‘ کے مخرج سے متعلق متعدد سوالات

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • گھر کے قریب مدرسے -سکول سےتلاوتِ قرآن سنائی دینے کی صورت کے احکامات

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • عورت کا تبلیغ کرنا , عورت کا قبرستان جانا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • قبر پر پانی ڈالنا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • امام ابوحنیفہؓ کی کتب

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • مسجد میں فضائلِ اعمال کی تعلیم اور درسِ قرآ ن کے سلسلے میں تقابل و ٹکراؤ کی فضا بنانا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • عورت کی مختلف خصلتوں کی بناء پر ، مختلف تشبیہات

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • زیرِ ناف بال کاٹنے کی حدود

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • ’’الرحمٰن میڈیکل کلینک‘‘ نام رکھنا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • والدین کے محتاجِ خدمت ہونے کی صورت میں ،طلبِ علم کیلۓ نکلنا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • علم ابجد یا علم نجوم والوں سے غیب اور مستقبل کا پوچھنا

    یونیکوڈ   متفرقات 0
  • بروز جمعرات ارواح کا گھروں میں آنا -نمازِ جنازہ کے بعد مکرر اجتماعی دعا-شہر کی متعدد مساجد میں قیامِ جمعہ

    یونیکوڈ   متفرقات 0
Related Topics متعلقه موضوعات