نام رکھنے کا حکم

ایشمل نام رکھنا کیساہے

فتوی نمبر :
89122
| تاریخ :
2025-11-25
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

ایشمل نام رکھنا کیساہے

بچی کا نام ایشمل (Eshmal) رکھنا کیسا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ تلاش بسیار کے باوجود ایشمل لفظ عربی اردو کی کسی معتبر لغت میں نہیں مل سکا ، لہذا ایشمل لفظ "یاء " کے اضافہ کے ساتھ بچی کے لیے یہ نام رکھنا تو درست معلوم نہیں ہوتا ، تا ہم اگر یہ نام اشمل بغیر لفظ "یاء" کے ہو تو یہ شمل سے ہے ،جسکا معنی "عام ہونا ،سب کو شامل ہونے کے ہیں، اس معنی کے لحاظ سے اس نام کو رکھنے کی گنجائش ہے ، مگر بچی کے لیے صحابیات رضی اللہ عنہن اور امت کی نیکو کار خواتین کے ناموں پر نام رکھنا زیادہ بہتر و مستحسن ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی المنجد:شمل شمولات الریح و شملا وشمولا الامر القوم :عمھم (ص:٤٠٢،ناشر:دار المشرق بيروت)
وفي معجم الوسيط:سملت ،شملا و شمولا:تحولت الى ريح الشمال والامر القوم عمهم (ص:٥١٤،ناشر:دار نشر اللغة العربية)
وفي الهندية: وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط(الباب الثاني والعشرون في تسمية الأولاد ،ج : ٥،ص : ٣٦٢،ناشر:ماجدية

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89122کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات