میرے سسرال کی طرف سے ہم نے چودہ سال قبل ایک نو زائیدہ بچی کو گود لیا تھا ،جب وہ صرف ایک ہفتہ کی تھی، کیونکہ میرے سسرال کی عمارت گر گئی تھی اور اس حادثے میں تمام خواتین مر گئی تھیں، لیکن الحمدللہ وہ اپنے بڑے بھائی اور اپنے والد کے ساتھ بچ گئی جو کام پر تھے، اس وقت سے وہ ہمارے ساتھ پرورش پا رہی ہے کیونکہ میری بیوی اس کی پھوپھی ہے۔ میری ایک بیٹی اور ایک بیٹا بھی ہے جو ان سے بڑا ہے۔ اب ہم نے اپنی والدہ کے ساتھ عمرہ کرنے کا ارادہ کیا ہے اور سب کچھ تیار ہے، تاہم وہ ابھی پچھلے ہفتے بلوغت کی طرف متوجہ ہوئی ہیں ۔تو میرا سوال یہ ہے کہ: اس صورت حال میں شریعت کیا اجازت دیتی ہے کیونکہ میں اپنی والدہ کی وجہ سے اس کے والد کو اپنے ساتھ نہیں لا سکتا اور اپنی بیٹی کی وجہ سے اس کے بھائی کو نہیں لا سکتا؟میری بیوی حتیٰ کہ میں اور میری بیٹی بھی اس کے بغیر جانے پر راضی نہیں ہیں،کیونکہ اس کی پرورش ہمارے ساتھ میری اپنی بیٹی کی طرح ہوئی ہے۔ تو راہ نمائی فرمائیں۔
اگر سائل کی بیوی نے مذکور بچی کو مدت رضاعت میں دودھ پلایا ہو، تو ایسى صورت میں ان کے درمیان رضاعت کا تعلق قائم ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے سائل اس کا رضاعى والد ہونے کی وجہ سے اس کا محرم کہلائے گا، اور مذکور لڑکی کا اس کی موجودگی میں عمرہ کا سفر کرنا درست ہوگا۔ بصورت دیگر ان کے درمیان محرمیت کا تعلق نہ ہونے کی وجہ سے مذکور لڑکی کو بغیر محرم سفر کرنے کا گناہ ہوگا۔
كما في رد المحتار: أقول: وقول القنية وليس معهما محرم يفيد أنه لو كان فلا خلوة والذي تحصل من هذا أن الخلوة المحرمة تنتفي بالحائل، وبوجود محرم أو امرأة ثقة قادرة اھ(كتاب الحظر والإباحة، ج: 6، ص: 368، ط: ايج ايم سعيد)
وفيه أيضا: وفيه إشارة إلى أن الحرة لا تسافر ثلاثة أيام بلا محرم اھ (كتاب الحظر والإباحة،ج: 6، ص: 390، ط: ايج ايم سعيد)
وفي بدائع الصنائع: الذي يخص النساء فشرطان: أحدهما أن يكون معها زوجها أو محرم لها فإن لم يوجد أحدهما لا يجب عليها الحج (الی قوله) ولو كان معها محرم فلها أن تخرج مع المحرم في الحجة الفريضة من غير إذن زوجها عندنا اھ (كتاب الحج، فصل شرائط فرضية الحج، ج: 2، ص: 123/124، ط: ايج ايم سعيد)
وفي الهندية: إذا أحرمت بغير حجة الإسلام وكان معها محرم فإن لم يكن لها زوج فإنها تمضي على ذلك هكذا في شرح الطحاوي في باب الفدية اھ (كتاب الحج، الباب السابع عشر في النذر بالحج، ج: 1، ص: 263، ط: المكتبة الماجدية)