کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ایک لڑکی نے رخصتی سے قبل عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری لی، اس کے بعد جب شوہر کو بتایا تو اس نے کہا کہ ”میں عدالت کے فیصلہ کو مانتا ہوں“ زبانی کہا، لیکن دستخط نہیں کئے تو کیا یہ خلع معتبر ہے؟
پولیس کے سامنے اس نے اقرار کیا کہ میں عدالتی فیصلہ کو مانتا ہوں تو انہوں نے کہا کہ اگر مانتے ہو تو اس ڈگری پر سائن کر لو اور اس نے سائن کر لیا تو اب یہ خلع اور ڈگری معتبر ہوگی؟ یہ زبردستی کے زمرے میں تو نہیں آئے گا ؟جو بھی شرعی حکم ہو،تحریر فرمائیں۔
مفتی غیب نہیں جانتا،وہ سوال کے مطابق جواب دینے کاپابندہوتاہے، سوال کے سچ اورجھوٹ کی ساری ذمہ داری سوال کرنے والے پرعائدہوتی ہے، لہذاصورت مسئولہ میں اگر شوہر نے بیوی کے سامنے یابعدمیں پولیس کی موجودگی میں بغیر کسی قسم کے جبر واکراہ زبانی اقرار کیاہو کہ وہ عدالتی فیصلہ کو مانتا ہےاور اس ڈگری پر دستخط بھی کر دیےہوں توان دونوں صورتوں میں یہ اقرار و دستخط شرعاً خلع پر اس کی رضامندی سمجھے جائیں گے۔محض اس موقع پر پولیس کی موجودگی یا پولیس کایہ کہنا "اگر مانتے ہو تو دستخط کر لو"یہ زبردستی کے زمرے میں نہیں آئے گااوراس کی وجہ سےمذکورلڑکی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی ہے اور لڑکی فی الفور دوسری جگہ نکاح کرنےمیں آزاد ہے ، البتہ اگر وہ باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کرنے کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں، مگر آئندہ کے لئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
تاہم اگر شوہر پر حقیقۃً کوئی ایسا دباؤ تھا جو شریعت میں اکراہ مُلجِئ شمار ہو، مثلاً ناحق گرفتاری، مارپیٹ، قید، یا شدید نقصان کی دھمکی وغیرہ اورشوہرنے اس سے بچنے کے لیےڈراور خوف کے مارے اس ڈگری پر دستخط کیےہوں تو اس صورت میں اس کادعوی قبول کیاجائے گااورشرعاًکوئی طلاق واقع نہ ہوگی ۔ لہذاجس میاں بیوی کویہ صورت درپیش ہووہ بالمشافھہ کسی قریبی معتبردارالافتاء حاضرہوکراپنامسئلہ بتاکر مفتیان کرام کے بیان کردہ حکم کے مطابق عمل کرلیں۔
کماقال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ الخ(سورۃالبقرۃ، آیت: 228)۔
وفی احكام القرآن للجصاص: قال انهما لا يجوز خلعهما الا برضى الزوجين فقال اصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا الا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان و انما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة و الآخر وكيل الزوج فی الخلع الخ (ج: 3،ص:153، ط: سهیل اکیڈمی)۔
وفى بدائع الصنائع: وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول الخ (كتاب الطلاق، ج: 3 ، ص:145، ط: ایچ-ایم- سعید)۔