السلام عليكم ۔
سر میں پاکستانی شہری ہوں ۔اور جدہ سعودی عرب میں کام کرتا ہوں۔کبھی کبھی پاکستان سے دوست آجاتے ہیں عمرے کیلئے ،تو ہم مکہ جاتےہیں اس سے ملنے۔ تو اس صورت میں ہم بنا احرام کے مکہ جاسکتے ہیں دوست سے ملنے یا کوئی اور کام ہو تو؟یا لازماً احرام باندھنا ہوگااور عمرہ کرنا ہوگا۔؟
واضح ہو کہ وہ لوگ جو میقات سے باہر رہتے ہیں ،وہ جب مکہ میں داخل ہونے کے ارادہ سے میقات عبور کریں ، چاہے حج و عمرہ کے ارادہ سے ہو یا کسی دوسری ضرورت سے ہو تو ان پر عند الاحناف ہر دفعہ میقات سے احرام باندھ کو عمرہ کی ادائیگی شرعاً لازم ہوجا تی ہے، البتہ اگر کوئی شخص میقات کے اندر اور حرم سے باہر رہتا ہو اگر ایسا شخص مکہ مکرمہ عمرہ کی نیت کئے بغیر کسی دوسرے کام کیلیے جانا چاہے تو شرعا اس پر احرام باندھنا لازم نہیں ، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی رہائش چونکہ میقات کے اندر ہے اسلئے سائل اگر فقط اپنے دوستوں سے ملاقات کیلئے مکہ جائے اور عمرہ کی نیت نہ کرے تو اس پر احرام باندھنا لازم نہ ہوگا ۔
كما في الهندية : ومن كان داخل الميقات كالبستاني له أن يدخل مكة لحاجة بلا إحرام إلا إذا أراد النسك فالنسك لا يتأدى إلا بالإحرام ولا حرج فيه كذا في الكافي وكذلك المكي إذا خرج إلى الحل للاحتطاب أو الاحتشاش ثم دخل مكة يباح له الدخول بغير إحرام (الباب الثاني في المواقيت ،ج:١،ص: ٢٢١،مط:ماجدية)
وفي التاترخانية: ومن كان اهله في الميقات او داخل الميقات جاز له دخول مكة بغير احرام لحاجة من الحوائج (الفصل الرابع في مواقيت الاحرام،ج:٣،ص: ٥٥١،مط:رشيدية)
وفي الدر المختار: ( وحرم تأخير الإحرام عنها ) كلها ( لمن ) أي لآفاقي ( قصد دخول مكة ) يعني الحرم ( ولو لحاجة ) غير الحج
وفي رد المحتار تحت قوله : ( وحرم الخ ) فعليه العود إلى ميقات منها وإن لم يكن ميقاته ليحرم منه وإلا فعليه دم سيأتي بيانه في الجنايات قوله ( غير الحج ) كمجرد الرؤية والنزهة أو التجارة فتح (كتاب الحج،ج:٢،ص:٤٧٧،ناشر:ايچ ایم سعید)