السلام علیکم
جی مفتی صاحب ایک مسئلے کے متعلق فتوی چاہئیے،ہماری ایک عزیزہ ہے انہوں نےعدالت میں خلع کے لیے رجوع کیا ہوا تھا .عدالت تو تقریباً ان کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے ایک لحاظ سے ،لیکن وہ ان کے جو شوہر ہے وہ عدالت میں حاضر نہیں ہو رہے تو اگر عدالت عورت کے حق میں فیصلہ دے دے تو كيا خلع ہو جائے گی؟ مطلب طلاق ہو جائے گی؟ شرعی اعتبار سے اس کی کیا حیثیت ہے ؟اس کے بارے میں ذرا مہربانی کر کےراہنمائی فرمادیں،اور اس کے بعد مفتی صاحب اس کی پھر عدت کے بارے میں بھی رہنمائی فرما دیں ۔جزاك الله خيراً
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جو کہ عموماً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتا ہے، چنانچہ ایسی ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا، بلکہ بد ستور برقرار رہتا ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی کسی عزیزہ نے خلع کا دعوی دائر کیا ہو ، اور عدالت اس کے شوہر کی اجازت و رضا مندی کے بغیر اس کے حق میں یک طرفہ خلع کی ڈگری جاری کردے ،جس پر شوہر یا اس کے وکیل نے منہ زبانی یا تحریری طور پر رضامندی کا اظہار نہ کیا ہو ، اور اس خلع کے اجراء کے وقت فسخ نکاح کے أسباب میں سے کوئی سبب بھی موجود نہ ہو تو اس کی وجہ سے شرعاً میاں بیوی کا نکاح ختم نہ ہوگا ، بلکہ بد ستور برقرار رہے گا ، چنانچہ اس طرح کے خلع کی ڈگری کو بنیاد بنا کر عورت کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد بھی نہ ہوگی ۔ لہذا مذکورہ عورت پر لازم ہے کہ وہ کسی طرح شوہر سے اس خلع کی اجازت لے لے ،تاکہ یہ خلع شرعا ًبھی معتبر ہو سکے ۔
کما فی شرح مختصر الطحاوي للجصاص :[ليس للحكمين في الشقاق التفريق إلا بالتفويض] قال: (وليس للحكمين في الشقاق أن يفرقا إلا أن يجعل ذلك إليهما الزوجان) قال أحمد: وروي عن علي رضي الله عنه مثل ذلك.( باب مسألة الخلع، ج : ۴،ص: 456-ط : دار البشائر الإسلامية)
و فی فتح القدير للكمال بن الهمام : ولو ادعى النشوز وادعت هي ظلمه وتقصيره في حقها يفعل الحاكم ما يتفقان عليه من الجمع والتفريق، وليس لهما أن يجمعا ولا أن يفرقا بغير أمرهما ۔( باب الخلع،ج :۴ ، ص : ۲۴۴ ، ط : دار الفكر)
و فی المبسوط للسرخسي : و الخلع جائز عند السلطان و غيره ؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، و هو بمنزلة الطلاق بعوض۔(باب الخلع،ج؛6 ص: 173 ، ط؛ دار المعرفة)
و في موسوعة الفقه على المذاهب الأربعة: اتفق فقهاء المسلمين على أن الزوجين إذا وصلا إلى حالة من الشقاق و السباب و النفور و اشتد الخلاف بينهما و أشكل أمرهما و خيف من تعديهما إلى ما حرم الله أنه يبعث حكمان حكم من أهله و حكم من أهلها إن و جدا، فينظران بينهما و يفعلان ما يريان المصلحة فيه لهما من جميع أو تفريق لقوله تعالى: ﴿و إن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله و حكما من أهلها إن يريدا إصلاحا يوفق الله بينهما) [النساء: (٣٥).( التحكيم عند الشقاق بين الزوجين، ج: ۱۶، ص: ۴۳۶، ط: دار التقوى).