کیا میں اپنی بچی کا نام معیزہ انعم رکھ سکتا ہوں، جبکہ میری بیوی کا نام بھی انعم ہے؟
”مُعَيْزہ“ (میم کے پیش، عین کے زبر اور یاء کے سکون کے ساتھ) لفظِ ”مَعْز“کی تصغیر ہے، اس کا معنٰی ہے بالوں والی بکری کا چھوٹا سا بچہ، لہٰذا معیزہ انعم نام رکھنے کی اگرچہ شرعاًگنجائش ہے،تاہم اگرآسانی وسہولت کے ساتھ نام تبدیل کرناممکن ہوتوصحابیات کےنام یاکسی اوراچھے بامعنی نام سے اسے تبدیل کرلینازیادہ بہترہے ۔
کما فی درر الحكام شرح غرر الأحكام: و المعز اسم جنس لا واحد له من لفظه و هي ذوات الشعر من الغنم، الواحدة شاة و هي مؤنثة و تفتح العين و تسكن و جمع الساكن أمعز و معيز مثل عبد و أعبد و عبيد و ألف المعزى للإلحاق لا للتأنيث و لهذا تنون في النكرة و تصغر على مُعَيْزٍ و لو كانت للتأنيث لم تحذف، (ج:1، ص:177، ط: دار إحياء الكتب العربية)-