نام رکھنے کا حکم

میران نام رکھنا کیساہے

فتوی نمبر :
90132
| تاریخ :
2025-12-18
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

میران نام رکھنا کیساہے

السلام علیکم، جی، میں نے ایک نام سوچا ہے اپنے ہونے والے بیٹے کے لیے، جو ہے "میران" ۔ اس کا ماخذ فارسی / ترکی ہے اور مطلب "سچا رہنما (True Leader)" ہے۔ براہِ کرم مجھے بتائیں کہ کیا یہ نام رکھنا صحیح ہے؟ کیا اس کا مطلب درست ہے؟ اگر یہ نام ٹھیک ہے تو کیا اس کے ساتھ محمد لگایا جا سکتا ہے؟بہت شکریہ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

"میران" فارسى زبان کا لفظ ہے، جس کا معنی ہے: سرداروں کا سردار، بہت بڑا امیر، بہت بڑا بزرگ، اور بچے کے لیے یہ نام رکھنے میں کوئی قباحت نہیں۔ جبکہ تبرک کی نیت سے اس نام کے شروع میں لفظ "محمد " کا اضافہ کرنا شرعا بھی مستحسن ہوگا

مأخَذُ الفَتوی

كما في التاريخ الكبير للبخاري: عن عبد الله بن جراد، قال: صحبني رجل من مؤتة، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم وأنا معه، فقال: يا رسول الله، ولد لي مولود، فما أخير الأسماء؟ قال: "إن أخير أسمائكم الحارث، وهمام، ونعم الاسم عبد الله، وعبد الرحمن، وسموا بأسماء الأنبياء، ولا ‌تسموا ‌بأسماء الملائكة"، قال: وباسمك؟ قال: "وباسمي، ولا تكنوا بكنيتي". (باب عبادلة، عبد الله بن جراد، ج: 6، ص: 37، الرقم: 6082)
وفي سنن أبي داؤد: عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إنكم تدعون يوم القيامة باسمائكم وأسماء آبائكم، فاحسنوا أسماءكم. (باب تغيير الأسماء،ج: 7، ص: 303، ط: دار الرسالة العالمية، الرقم: 4948)
وفيه أيضا: عن أبي وهب الجشمى -وكانت له صحبة- قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "تسموا بأسماء الأنبياء، وأحب الأسماء إلى الله: عبد الله وعبد الرحمن، وأصدقها: حارث وهمام، وأقبحها: حرب ومرة. (باب تغيير الأسماء،ج: 7، ص: 305، ط: دار الرسالة العالمية، الرقم: 4950)
وفي فيروز اللغات: "ميران" (ف-ا-مذ) سرداروں كا سردار، بهت بڑا امير، بهت بڑا بزرگ. (ص: 1329، ط: فيروز سنن لميٹيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90132کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات