کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ شیطان کے بہکاوے میں آ کر اگر دونوں رضامند ہوں کہ شوہر بیوی کے ساتھ پیچھے کے راستے سے مباشرت کرے، تو کیا نکاح ٹوٹ جائے گا؟ یا پھر اس کا کیا کفارہ ہے؟ صحیح رہنمائی فرمائیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں۔۔
بیوی کے پچھلے راستے سے جماع کرنا، خواہ میاں بیوی کی رضامندی سے ہی کیوں نہ ہو، بلا شبہ ناجائز اور حرام ہے۔ ایسے شخص کے متعلق احادیثِ مبارکہ میں بڑی وعیدیں بیان ہوئی ہیں، حتیٰ کہ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے ایسے شخص کو ملعون قرار دیا ہے۔ اس لیے دونوں میاں بیوی پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرنے کے ساتھ اس گناہ سے آئندہ اجتناب لازم ہے۔ تاہم اس فعلِ بد کی وجہ سے ان کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
کما فی مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ملعون من أتى امرأته في دبرها» . رواه أحمد وأبو داود اگ (2/ 953)
وفيه أيضاً : مشكاة المصابيح: أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أتى حائضا أو امرأة في دبرها أو كاهنا فقد كفر بما أنزل على محمد» . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي اھ (1/ 173) واللہ اعلم بالصواب