کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مسماۃ بانو کا نکاح کئی عرصہ قبل مسمٰی زید کے ساتھ ہوا تھا، نکاح کے بعد شوہر کی بیوی کے ساتھ نہیں بنتی تھی، جس کی وجہ سے وہ اکثراسے بے انتہا مارتا پیٹتا اور مختلف طریقوں سے اذیت دیا کرتا تھا، تین چار دفعہ قبائلی عمائدین دونوں کے درمیان صلح کرائی، مگر یہ سب ناکام رہے، پھر بھی شوہر سخت مارپیٹ کیا کرتے تھے، اسی طرح وہ نشے کا بھی عادی ہے۔
بالآخر عورت کے بھائی اپنی بہن کو اپنے ساتھ لے گئے۔ کچھ عرصہ بعد عدالت میں نکاح کے خاتمے کے لئے مقدمہ دائر کیا گیا، بالآخر عدالت نے 2017/10/30 کو دونوں کے درمیان تفریق کا فیصلہ جاری کردیا، فیصلہ کے بعد سے اب تک میاں بیوی کے درمیان کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔
اب سوالات درج ذیل ہیں:
(1)عدالت کی جانب سے کی گئی تفریق کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ( تمام کاغذات منسلک ہیں)
(2)اگر شرعی طور پر تفریق واقع ہوگئی ہے تو اس سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟
(3)اگر یہ تفریق شرعاً معتبر نہ ہو، یعنی نکاح بدستور قائم ہو، تو عورت کو اس شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے کیا شرعی طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا تاکہ وہ دوسری جگہ نکاح کرسکے؟
نوٹ: عدالت کی جانب سے تفریق کے بعد عورت کی دوسری جگہ منگنی ہوچکی ہے، اور اب شادی کی تاریخ بھی قریب ہے، لہذا سوال اور اس کے ساتھ منسلکہ تفریق نامہ کے کاغذات کو مدِّ نظر رکھ کر شرعی حکم سے آگاہ فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔
سوال اور اس کے ساتھ منسلکہ بیوی کا دعوٰی اور عدالت کے فیصلے کا مطالعہ کیا گیا ،جن کا حاصل یہ ہے کہ بیوی مدعیہ بانو نےعدالت میں اپنا دعوی داخل کیا،جس میں اس نے مدعی علیہ شوہر مسمی زید پر کچھ الزامات عائد کیے ہیں،جن میں شوہر کا بیوی کے ساتھ مارپیٹ اور برا سلوک کرنا،گھر سے نکالنا ،مدعیہ کو نان نفقہ نہ دینا وغیرہ ،اور مدعیہ مسماۃ بانو کاکہنا ہے کہ ان حالات کی وجہ سے اس کے دل میں مدعیٰ علیہ شوہر کے لئے نفرت پیدا ہوگئی ہے،اور اس کے لئے مدعٰی علیہ شوہر کے ساتھ رہنا ممکن نہیں،لہذا عدالت اس کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کرے۔
مدعیہ بانو کی طرف سے درخواست دائر ہونے کے بعد عدالت نے شوہر مسمٰی زید کو عدالت میں حاضر ہونے کے لئے بار بار سمن اور نوٹس جاری کیے ،لیکن اس کے باوجودشوہر عدالت حاضر نہیں ہوا اور اپنا دفاع نہیں کیا،چنانچہ اگر شوہر کو اس کی اطلاع ہوئی تھی اور اس کو پتہ تھا کہ میرے خلاف عدالت میں کیس چل رہا ہے اور عدالت مجھے طلب کررہی ہے،لیکن اس کے باوجود وہ جان بوجھ کر عدالت حاضر نہیں ہوا تو یہ شوہر کی طرف سے ‘‘نکول ’’ یعنی قسم سے انکار ہے،لہذا اب اگر مدعیہ نے عدالت میں گواہوں کے ذریعہ شوہر کا اسے مارنا پیٹنااور نان نفقہ نہ دینا ثابت کردیا ہوتو اس کی وجہ سے شوہر متعنت ہے، جبکہ مدعیہ بیوی بانو کے پاس شرعی گواہ نہ ہونے یا پیش نہ کرنے کی بنیاد پر شوہر کو قسم کے لئے بلایا گیا،لیکن وہ عدالت حاضر نہیں ہوا اور اپنا دفاع نہیں کیا،اس کے بعد عدالت نے بیوی مدعیہ بانو کے حلفیہ بیان کو بنیاد بناکر نکاح کو فسخ کردیا۔
اس فیصلے میں گو عدالت نے تعنت کو صراحۃ ًفسخِ نکاح کی بنیاد نہیں بنایا ہے، بلکہ مذکورہ فیصلہ یکطرفہ خلع کی بنیاد پر جاری کیاگیاہے،اور شوہر کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ خلع اگرچہ شرعاً معتبر نہیں ہے،تاہم چونکہ اس فیصلہ میں فسخِ نکاح کی بنیاد(متعنت ہونا) فی الجملہ موجود ہے،اور شوہر بھی عدالت کے بلانے اور سمن جاری کرنے کے باوجود عدالت حاضر نہیں ہوا جو اس کی طرف سے قسم سے نکول بھی ہے،لہذا مذکورہ تعنت اور نکول کی بنیادپر مذکورہ فیصلہ شرعاً بھی درست سمجھا جائے گا،اس لئے بانو کا نکاح اس کے شوہر زید سے ختم ہوچکا ہے،اور اس فیصلہ کے بعد عدت بھی گزر چکی ہے، لہذا مدعیہ کا کہیں اور نکاح کرنا جائز ہے ۔
کماقال اللہ تعالیٰ:وَلَا تُمۡسِكُوهُنَّ ضِرَارٗا لِّتَعۡتَدُواْۚ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٰلِكَ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهُۥۚ(البقرة: 231)-
وقال اللہ تعالیٰ:أَسۡكِنُوهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ سَكَنتُم مِّن وُجۡدِكُمۡ وَلَا تُضَآرُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُواْ عَلَيۡهِنَّۚ (الطلاق: 6)-
وفی المغني لابن قدامة: فإن امتنع من الحضور، أو توارى، فظاهر كلام أحمد، جواز القضاء عليه؛ لما ذكرنا عنه في رواية حرب. وروى عنه أبو طالب، في رجل وجد غلامه عند رجل، فأقام البينة أنه غلامه، فقال الذى عنده الغلام: أودعنى هذا رجل. فقال أحمد: أهل المدينة يقضون على الغائب، يقولون: إنه لهذا الذى أقام البينة. وهو مذهب حسن (کتاب القضاء، ج:14، ص:96، ناشر: دار عالم الکتب)-
وفی الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: رأي الفقهاء في التفريق للشقاق: لم يجز الحنفية والشافعية والحنابلة التفريق للشقاق أو للضرر مهما كان شديداً؛ لأن دفع الضرر عن الزوجة يمكن بغير الطلاق، عن طريق رفع الأمر إلى القاضي، والحكم على الرجل بالتأديب حتى يرجع عن الإضرار بها.وأجاز المالكية التفريق للشقاق أو للضرر، منعاً للنزاع، وحتى لا تصبح الحياة الزوجية جحيماً وبلاء، ولقوله عليه الصلاة والسلام: «لا ضرر ولا ضرار». وبناء عليه ترفع المرأة أمرها للقاضي، فإن أثبتت الضرر أو صحة دعواها، طلقها منه، وإن عجزت عن إثبات الضرر رفضت دعواها، فإن كررت الادعاء بعث القاضي حكمين: حكماً من أهلها وحكماً من أهل الزوج، لفعل الأصلح من جمع وصلح أو تفريق بعوض أو دونه، لقوله تعالى: {وإن خفتم شقاق بينهما، فابعثوا حكماً من أهله وحكماً من أهلها}[النساء:35/ 4](القسم السادس، الباب الثانی، الفصل الثالث، ج:6، ص:7060، ناشر: دار الفکر)-
وفی طريقة الخلاف في الفقه بين الأئمة الأسلاف:[مسألة]: النكول حجة يقضي بها في باب الأموال. وعنده لا يقضي بمجرد النكول، بل ينقل اليمين إلى المدعي. فإذا حلف يقضي له. والوجه فيه - أن نكول المدعي عليه عن اليمين دل على كونه كاذباً في الإنكار أو باذلاً للمال، فيجب على القاضي القضاء [للمدعي] بأخذ المال، قياساً على ما إذا بذل صريحاً اھ(کتاب الدعویٰ، ص:390، ناشر:مکتبۃ دار التراث)-
کفایۃ المفتی میں ہے: اگر شوہر کے مظالم ناقابل برداشت ہوں اور وہ طلاق بھی نہ دےاور عورت کی عصمت خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو عورت کسی مسلمان حاکم کی عدالت میں اپنا نکاح فسخ کراسکتی ہے اور بعد حصولِ فسخ و انقضائے عدت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے(کتاب الطلاق، ج:6، ص:127، ناشر: دار الاشاعت)-