حضرت مفتی صاحب! السلام علیکم"مجھے عمرہ کے بارے میں چند مسائل جاننا نہایت ضروری ہیں٬ امید ہے کہ مندرجہ ذیل مسائل کو قرآن و حدیث کی روشنی میں فقہِ حنفی کے مطابق حل فرما کر عنداللہ ماجور ہوں گے،کیا ایک شخص ایک ہی سفر میں متعدد عمرے ادا کر سکتا ہے؟مثال کے طور پر: پہلے اپنا عمرہ ادا کرے، پھر اپنے والدین، بیوی اور بہن بہنوئی کی طرف سے عمرہ کر سکتا ہے یا نہیں؟اور اگر کر سکتا ہے تو اس کا مسنون طریقہ کیا ہے؟اور کیا ہر عمرے کے لیے نیا نیا احرام باندھنا ہوگا، یا ایک ہی احرام کھول کر دوبارہ وہی باندھ لینا کافی ہوگا؟نیز ہر نئے عمرے کے لیے میقات کیا ہوگی؟کیا فوت شدہ افراد کی طرف سے بھی عمرہ ادا کیا جا سکتا ہے؟عمرہ کے مسائل آسان اور مختصر الفاظ میں بیان فرما دیں٬(درحقیقت میں ایسی جگہ مقیم ہوں ٬جہاں کتابیں دستیاب نہیں ہیں)عمرہ کے ارکان اور عمرہ کے مسائل کیا ہیں؟ان سوالات کے جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
واضح ہوکہ ایک شخص ایک ہی سفر میں بلاشبہ متعدد عمرے ادا کرسکتا ہے، شرعاً اسمیں کوئی حرج نہیں، چنانچہ پہلے اپنا عمرہ ادا کرلے، پھر والدین، بیوی، بہن، بہنوئی یادیگر زندہ یا فوت شدہ مسلمانوں کی طرف سے بھی عمرہ کرسکتا ہے، بشرطیکہ ہر عمرہ الگ احرام کے ساتھ ادا کیا جائے۔ تاہم دوسرے یا تیسرے عمرہ کیلئے الگ سے احرام کی چادر بدلنا ضروری نہیں، بلکہ اسی احرام کی چادر میں میقات (حدودِ حرم سے باہر)مسجدِ عائشہ یا جعرانہ وغیرہ جاکر دوسرے اور تیسرے عمرے کی نیت کرسکتا ہے، جبکہ عمرہ کے بنیادی ارکان و اعمال یہ ہیں:
1۔ میقات یا حدودِ حرم سے باہر احرام باندھ کر عمرہ کی نیت کرنا۔
2۔ بیت اللہ کا سات چکر طواف کرنا۔
3۔ صفا و مروہ کے درمیان سعی کےسات چکر لگانا۔
4۔ آخر میں حلق یا قصر (بال منڈوانا یا کٹوانا) کروانا۔
ان اعمال کے بعد عمرہ مکمل ہوجاتا ہے اور احرام ختم ہوجاتا ہے۔
کما فی جامع الترمذی : عن أبي رزين العقيلي، أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، إن أبي شيخ كبير لا يستطيع الحج، ولا العمرة، ولا الظعن، قال: «حج عن أبيك واعتمر»هذا حديث حسن صحيح وإنما ذكرت العمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الحديث أن يعتمر الرجل عن غيره وأبو رزين العقيلي: اسمه لقيط بن عامر(باب ماجاء فی الحج عن الشیخ الکبیر، ج:1، ص:318، رقم:916، م:البشرٰی)
وفی الدرالمختار:الأصل أن كل من أتى بعبادة ما، له جعل ثوابها لغيره وإن نواها عند الفعل لنفسه لظاهر الأدلةاھ(باب الحج عن الغیر، ج:2، ص:595، ط:سعید)
وفی الشامیۃ: (قوله بعبادة ما) أي سواء كانت صلاة أو صوما أو صدقة أو قراءة أو ذكرا أو طوافا أو حجا أو عمرةالخ(باب الحج عن الغیر، ج:2، ص :595، ط:سعید)
وفیھاایضاً : (قوله والعمرة في العمر مرة سنة مؤكدة) أي إذا أتى بها مرة فقد أقام السنة غير مقيد بوقت غير ما ثبت النهي عنها فيه إلا أنها في رمضان أفضل هذا إذا أفردها فلا ينافيه أن القران أفضل لأن ذلك أمر يرجع إلى الحج لا العمرة.فالحاصل: أن من أراد الإتيان بالعمرة على وجه أفضل فيه فبأن يقرن معه عمرة فتح، فلا يكره الإكثار منها خلافا لمالك، بل يستحب على ما عليه الجمهور وقد قيل سبع أسابيع من الأطوفة كعمرة شرح اللباب(مطلب احکام العمرۃ،ج:2،ص: 472،ط:سعید)
وفی الھندیۃ : (وأما ركنها) فالطواف،(وأما واجباتها) فالسعي بين الصفا والمروة والحلق أو التقصير كذا في محيط السرخسي،(وأما شرائطها) فشرائط الحج إلا الوقت هكذا في البدائع،(وأما سننها وآدابها) فما هو سنن الحج وآدابه إلى الفراغ من السعي، (وأما مفسدها) فالجماع قبل طواف الأكثر من السبعة كذا في البحر الرائق في باب فوات الحج ناقلا عن البدائع المفرد بالعمرة يحرم للعمرة من الميقات أو قبل الميقات في أشهر الحج أو في غير أشهر الحج ويذكر العمرة بلسانه عند التلبية مع قصد القلب فيقول لبيك بالعمرة أو يقصد بقلبه ولا يذكر بلسانه والذكر باللسان أفضل كذا في المحيط ويجتنب المحرم بالعمرة ما يجتنب المحرم بالحج ويفعل في إحرامه وطوافه وسعيه بين الصفا والمروة ما يفعله الحاج،فإذا طاف وسعى وحلق يخرج عن إحرام العمرة ويقطع التلبية كلما استلم الحجر في أصح الروايات كذا في الظهيرية(الباب السادس فی العمرۃ،ج:1،ص:237،ط: رشیدیۃ)۔