خلع

شوہر کی اجازت سے لئے ہوئے خلع کا حکم

فتوی نمبر :
90770
| تاریخ :
2026-01-10
معاملات / احکام طلاق / خلع

شوہر کی اجازت سے لئے ہوئے خلع کا حکم

میں مسماۃ فرزانہ ناز زوجہ شوکت علی بذر یعہ درخواست آپ علماء سے اپنے عدالتی خلع کے فیصلے پر شرعی حل چاہتی ہوں ، جناب میری شادی مؤرخہ 13 مارچ 2012 کو شوکت علی ولد قاسم جان کے ساتھ طے پائی، جس سے میرے چار بچے ہیں بنام احمد علی - محمد علی ،طیبہ اور حبیبہ، جناب شادی کے دو سال تو بخیر وعافیت گزرے مگر بعد از میرے شوہر مجھ پر بات پے بات پر شک کرنےلگے ، میں چونکہ خود تعلیمی ادارے سے وابستہ ہوں اور بلدیہ ٹاؤن میں بحیثیت سپروائز تمام تعلیمی اداروں کی جانچ پڑتال میری ذمہ داری ہے ،آپ بخوبی جانتے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں خواتین و حضرات دونوں مشترکہ طور پر اپنے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں مگر میرے شوہرہر چھوٹی بڑی بات یا دیر سویر پر مجھ پر شک کرتے بدگمانی میں رہتے اور کئی مرتبہ پر حالات اتنی سنگین کیفیت اختیار کرتے کہ میں دو چار مرتبہ مجھے میکے میں ناراض ہو کر بیٹھنا پڑا اور شروع دن سے وہ مجھے کہتے آ رہے ہیں کہ اپنا فیصلہ لے لو اپنا فیصلہ لے لو لیکن میں بچوں کی خاطر برداشت کر کے مجبورا پھر راضی نامہ کر لیتی ، جناب میرے شوہر پانچ وقت کے نمازی ہیں اورہر وقت باوضو رہتے ہیں ، تمام شرعی اور قانونی حقوق زوجہ سے بخوبی واقف ہیں ، مگر آج تک انہوں نے میری کسی بھی قسم کی کوئی حق ادائیگی، ذمہ داری قبول نہیں کی اور 2016 سے بچوں کی تعلیم و تربیت اور تمام اخراجات پہننا اوڑھنا دیگر ضروریات میرے ذمہ ہے ، مجھے ان تمام پر بھی کوئی اختلاف نہیں ،ہر بیوی شوہر کا ساتھ دیتی ہے ، مگر جب گھر میں میری بہن یا بھائی یا کسی عزیز کا مجھے فون آتا ہے اور میں ان کے سامنے بات کرتی ہوں ،تو شک کرتے ہیں اور لعن طعن کرتے ہیں اور ایسے ناگوار الفاظ ادا کرتے ہیں کہ میں آپ سے بیان نہیں کر سکتی،مجھے کہتے ہیں کہ تم بد چلن تھی، شادی سے پہلے بدکردار تھی اور ہو جبکہ میں اگر کہتی ہوں کہ مجھے چھوڑ دیں بدچلن و بد کردار عورت ہوں تو پھر اپنی محبت و بھرم جتاتے ہیں،میرے تعلیمی اداروں کے افسران بالا مجھے بہن بیٹی مانتے ہیں اور میری بے حد عزت کرتے ہیں ،میں اپنی قابلیت کی بنیاد پر کئی اسناد و انعامات ٹاؤن سے حاصل کر چکی ہوں ،مجھے اپنے مرحوم والدین کی تربیت پر فخر ہے،اگر میرے گھر والے کہتے ہیں ان سے کہ ٹھیک ہے نوکری چھڑوا کر گھر بیٹھا لو ،تو کہتے ہیں کہ نہیں جاری رکھواور خرچ پورے کرو، دوسری طرف الزامات لگاتے ہیں بغیر کسی ثبوت کےاور میرے بہن بھائیوں سے کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا ہےکہ یہ کسی کے ساتھ بھاگ کر جا رہی ہے، فجر کے وقت کا خواب ہے سچا ہوگااور یہ چھوڑ کر چلی جائے گی، جناب عجیب نفسیاتی باتیں کرتے ہیں،اور اب کہتے ہیں کہ میں نے ایک مولوی سے حساب لگوایا ہے تم پر ٪ 99 جنات کے اثرات ہیں اور وہ تم کو عدالتی فیصلہ کرنے پر اور مجھ سے دور جانے پراکسا رہے ہیں،اور کہتے ہیں کہ مجھ پر یعنی شوکت پر کسی نے کالا جادو کیا ہے اور کئی مولویوں کے پاس جاکر اپنے پیسے ضائع کیے ہیں،آخری بار ایک مہینہ ناراضگی کے بعد 18.7.2025 کو مجھے کہاکہ جاؤ اور اپنا وکیل کروا کے فیصلہ لے لو، میں نے غصے میں آکر وکیل سے رجوع کیا اورخلع کا نوٹس دیا ،در میان میں بچوں کو روک کر پھر مجھے گھر لے گئے، مگر حالات معمول کے مطابق وہی تھے ، شک کرنا ،بد گمانی ،لعن طعن اور تہمت لگانا ،جناب میرے بچے اب جوان ہو رہے ہیں اور میرے شوہر ان کے سامنے مجھے انتہائی بد چلن اور بد کردار کہتے ہیں جبکہ بچے میری طرف ہیں، بچے خود بھی میری طرح ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہیں، میں نے ان تمام مسائل اور ذہنی و جسمانی اذیتوں سےتنگ آکرفیصلہ کیا ہے جو کہ عدالت نے یک طرفہ فیصلہ کی شکل میں مجھے خلع دےدی ہے، مگر آپ تمام سےدرخواست ہےکہ مجھے شرعی طور پر فتویٰ جاری کر دیں تاکہ میں اپنی باقی زندگی اپنے بچوں کے ساتھ بنا کسی جبر اور دباؤ کے گزار سکوں امید ہے ۔ درخواست پر غور فرمائیں گے ۔نوٹ: (1)میرے شوہر اب بھی میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں،(2)اور بچوں کو لے جانے کی دھمکی دیتے ہیں یا چھین لینے کی(3) جبکہ بچے میرے پاس خوش ہیں اور مطمئن ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو،اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو شوہر کا بیوی اور اولاد کے حقوق ادا نہ کرنا، نیز بغیر کسی ثبوت کے طرح طرح کے الزامات اور تہمت لگانا، اور بلا وجہ شک و شبہ کی بنا پر برے الفاظ استعمال کرنا شرعاً ناجائز اور حرام عمل ہے، جس کی وجہ سے شوہر گناہ گار ہوا ہے، جس پرتوبہ واستغفار لازم ہے ،البتہ جہاں تک مذکور اعذار کی بناء پر خلع لینے کا تعلق ہے ،تو واضح ہو کہ خلع درست ہونے کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ،سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق اگر واقعۃ شوہر نے سائلہ کو خلع لینے کی اجازت دےدی ہوجیساکہ سوال میں مذکور ہے اور شوہر ابھی بھی اس اجازت دینے کی تصدیق کرتا ہوتو اس کےبعدسائلہ کا عدالت کے ذریعہ خلع لینے کی وجہ سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر ان دونوں کا نکاح ختم ہوچکاہے، اور سائلہ ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے،البتہ اگر دونوں ازدواجی حیثیت سے ایک ساتھ زندگی بسر کرنا چاہیں تو باہمی رضامندی سے نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں باضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدید نکاح کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں،لیکن آئندہ کےلئے شوہر کے پاس فقط دوطلاقوں کا اختیار باقی رہےگا،جبکہ اولاد کی پرورش کے بارےمیں شریعتِ مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ لڑکی کی عمر نو سال اور لڑکے کی سات سال عمر ہونے تک ماں ہی اس کی پرورش کی حقدار ہوتی ہے ، بشرطیکہ وہ بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے شادی نہ کرےاور اس دوران بچوں کی پرورش کے اخراجات باپ کے ذمےلازم ہوں گےاور اس مدت کے پورا ہو نے کے بعد جب بچے اپنی ضروریات یعنی کھانا پینا استنجاءکرنا وغیرہ از خود پوری کر نے کے قابل ہو جائیں توبچوں کی پرورش کا حق باپ کو حاصل ہو گا،اور اس مدت پوری ہو نے کے بعدوالدہ کا اس میں رکاوٹ بننا جائز نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال اللہ تعالیٰ: فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (البقرہ:٢٢٩)
وفی الدرالمختار:(ولا بأس به عند الحاجة) للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر)بغير عكس كلي لصحة الخلع بدون العشرة وبما في يدها وبطن غنمها وجوز العيني انعكاسها(باب الخلع،ج:٣ ،ص:٤٤١ ،مط:سعید)
وفی ردالمحتار: (قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع(باب الخلع،ج:٣،ص:٤٤١ ،مط:سعید)
وفی ردالمختار: (قوله: و شرطه كالطلاق) و هو أهلية الزوج و كون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك و أما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، و لا يستحق العوض بدون القبول(باب الخلع،ج:٣،ص؛٤٤١،مط:سعید)
و في الدر المختار : (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا(الى قوله) وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى. وبنت إحدى عشرة مشتهاة اتفاقا زيلعي.( ‌‌باب الحضانة،ج:٣،ص:٥٦٧،مط:سعيد)
وفي الهنديه:نفقة ‌الأولاد ‌الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة(الفصل الرابع في نفقة الأولاد،ج:١،ص:٥٦٠،مط:ماجديه)
وفيه ايضاَ:أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي.( الى قوله)والأصل في ذلك أن هذه الولاية تستفاد من قبل الأمهات فكانت جهة الأم مقدمة على جهة الأب كذا في الاختيار شرح المختار(الى قوله) وإنما يبطل حق الحضانة لهؤلاء النسوة بالتزوج إذا تزوجن بأجنبي، فإن تزوجن بذي رحم محرم من الصغير كالجدة إذا كان زوجها جدا لصغير أو الأم إذا تزوجت بعم الصغير لا يبطل حقها كذا في فتاوى قاضي خان(الى قوله) ولو تزوجت الأم بزوج آخر وتمسك الصغير معها أو الأم في بيت الراب فللأب أن يأخذها منها(الباب السادس عشر في الحضانة،ج:١،ص:٥٤١،مط:ماجديه)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90770کی تصدیق کریں
0     186
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • خلع لینے کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   خلع 3
  • خلع کے بدلے پوراحق مہرمعاف ہوگا یا آدھا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   خلع 2
  • کورٹ کی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعد میاں بیوی کا ساتھ رہنے کے لئے رجوع کرنا

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی بنیاد پر عدت میں بیٹھنا

    یونیکوڈ   خلع 1
  • کورٹ سے تنسیخ نکاح کی ڈگری لینے کے بعد دوبارہ نکاح کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 1
  • کیا شوہر کے مارپیٹ کی وجہ سے بیوی خلع لے سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   خلع 0
  • مروجہ یکطرفہ عدالتی خلع کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • کیا خلع کے بعد عورت اپنے زیور اور حق مہر کا مطالبہ کرسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • خلع کی صورت میں بیوی سے حق مہر اور دیگر گفٹ کردہ اشیاء واپس لینے کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 1
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعد رجوع کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   خلع 0
  • باہمی رضامندی سے ہونے والے" خلع"کی حیثیت

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعد دوبارہ شوہر کے پاس جانا

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • بیوی کا غلط الزامات لگا کر کورٹ سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   خلع 1
  • اگر شوہر نہ طلاق دے اور نہ گھر بسائے تو یکطرفہ خلع سے نکاح ختم ہوجائے گا ؟

    یونیکوڈ   خلع 0
  • یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعدکیے گئے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • حقوق ادا نہ کرنے والے شوہر سے چھٹکارے کا طریقہ

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 1
  • خلع کے متعلق حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالتی خلع حاصل کرنا

    یونیکوڈ   خلع 1
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
Related Topics متعلقه موضوعات