کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں دوسری شادی کرنا جاہتا ہوں، معلوم کرنا تھا کہ میری بیوی نے میرے خلاف کوٹ میں خلع کا کیس کیا تھا،اور جج نے خلع کا فیصلہ سنایا تھا،اس کوٹ کی خلع کی وجہ سے واقعی میں نکاح ختم ہو جاتا ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کی صحت کے لیے شرعا میاں بیوی کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ،لہذا سائل یا اس کی جانب سے مقرر کردہ وکیل نے اگر اس خلع پر منہ زبانی یا تحریری طور پر دستخط کر کے رضامندی کا اظہار کر دیا ہو تو شرعا یہ خلع معتبر ہو کر میاں بیوی کا نکاح ختم ہو چکا ہے، البتہ اگر خلع کی نوعیت کچھ اور ہو تو سائل کو چاہیے کہ وہ خلع کی ڈگری اور اس کی مکمل تفصیلات لے کر کسی قریبی مستند دارالافتاء سے رجوع کر کے حکم شرعی معلوم کرے۔
کما قال تعالی: ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُواْ مِمَّآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ شَيۡـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَاۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٢٢٩ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ٢٣٠﴾(سورۃ البقرۃ:ایۃ:229،230)۔
و في المبسوط: (قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد. [كتاب الطلاق، باب الخلع، ج:6 ص:173 ط: دار المعرفة بيروت)]
في أحكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع (الى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها اهـ [سورة النساء، باب الحكمين كيف يعملان، ج:3 ص:152، 153 ط: دار إحياء التراث العربي بيروت).
وفي الفتاوى التاتارخانية: الخلع عقد يفتقر إلى الايجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض الخ (الفصل السادس عشر في الخلع، ج 3، ص 453، إدارة القرأن)