اگر بیوی سکون محسوس نہ کر رہی ہو اور وہ ہمبستری سے انکار کر دے، لیکن شوہر زبردستی اپنی خواہش پوری کر لے، تو کیا یہ عمل جائز ہے یا ناجائز؟ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ نے میاں بیوی میں سے ہر ایک کے لئےدوسرے پر حسنِ معاشرت کے اعتبار سے بہت سے حقوق عائد کئےہیں،چنانچہ جس طرح بیوی ان حقوق کی ادائیگی کی پابند ہے ،ایسا ہی شوہر پر بھی اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ معاشرت اختیار کرنا لازم ہے،جبکہ بیوی کو اگر کوئی عذر ہو،تو شوہر کا اسے ہم بستری پر مجبور کرنا درست طرزِعمل نہیں ہے،اسی طرح اگر اسے کوئی عذر نہ ہو تو شوہر کی طرف سے ہمبستری کے مطالبے کے باوجود اس کے احساسات کا خیال نہ رکھنا بھی درست رویہ نہیں ،اس لئے میاں بیوی کو چاہئیے کہ حقوقِ زوجیت کی ادئیگی میں وہ ایک دوسرے کے جذبات کا احساس رکھیں،تاکہ اس کی وجہ سے ان کی ازدواجی زندگی متاثر نہ ہوں۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ " إذا دعا الرجل امرأتہ إلی فراشہ فأبت، فبات غضبانا، لعنتھا الملئکۃ حتی تصبح اھ (کتاب النکاح باب عشرۃ النساء، ج: 2 صـ 25: ط: بشری)