گندی فلم دیکھنے کا عادی شوہر جس کی دو مہینے پہلے شادی ہوئی ،بیوی سے وہ سب کام کرتا ہے جو گندی فلم میں ہوتا ہے اور دھمکی بھی دے کہ اگر نہیں کیا تو بہت برا حشر کرے گا بچی پریشان ہے کیا کرے ؟نارمل حق زوجیت ادا نہیں کررہا دو مہینے ہوگئے، بہت سمجھایا ، کیا کرنا چاہیے بچی اس کے ساتھ رہنے پر تیار نہیں. آپ رہنمائی فرمائیں بڑی مہربانی ہوگی ۔
صورتِ مسؤلہ میں شوہر کا فحش فلم دیکھنا جس میں بد نظری، آنکھوں کی زنا، اور دوسرے قبیح افعال کا ارتکاب ہوتا ہے، اور فلم میں ہونے والے قبیح اور شرعاً ناجائز وناپسندافعال اپنی بیوی سے کروانا اور اسے اس پر مجبور کرنا ایک انتہائی سنگین اور سخت ترین گناہ کا عمل ہے،لہذا شوہر کو چاہیے کہ وہ اللہ کے حضور بصدق دل توبہ واستغفار کرے اور آئندہ ایسے گناہوں سے اپنے آپکو بچانے اور بیوی کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرے ، لیکن اگر شوہر سمجھانے کے باوجود بھی اس ناجائز اور قبیح عمل سے باز نہ آنے، اور جماع میں جائز طریقہ اپنانے اور حق زوجیت ادا کرنے پر آمادہ نہ ہو اور خاندان کے بڑوں کے ذریعے بھی مناسب انداز سے بات کرنے کے باوجود بہتری کی کوئی صورت ممکن نظر نہ آئے ، تو ایسی صورت میں پھر بیوی کیلئے طلاق یا خلع کے ذریعے شوہر سے اپنی جان چھڑانے کی گنجائش ہوگی،مگر طلاق وخلع لینے کے معاملہ میں جلد بازی سے کام لینا بہر حال درست نہیں۔
کما قال اللہ تعالی: قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30) وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ (الی قولہ تعالی) وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (سورۃ النور آیۃ 30)
وفی فیض القدیر: (زنا العينين النظر) يعني أن النظر بريد الزنا ورائد الفجور والبلوى فيه أشد وأكثر ولا يكاد يقدر على الاحتراس منه وإسناد الزنا إلى العين لأن لذة النكاح في الفرج تصل إليها. قال الغزالي: ونبه به على أنه لا يصل إلى حفظ الفرج إلا بحفظ العين عن النظر وحفظ القلب عن الفكرة وحفظ البطن عن الشبهة وعن الشبع فإن هذه محركات للشهوة ومغارسها قال عيسى عليه السلام: إياكم والنظر فإنه يزرع في القلب الشهوة وكفى بها لصاحبها فتنة ثم قال الغزالي: وزنا العين من كبار الصغائر وهو يؤدي إلى الكبيرة الفاحشة وهي زنا الفرج ومن لم يقدر على غض بصره لم يقدر على حفظ دينه،ج: 4،رقم الحدیث: 4563۔)
و فی ارشاد الساری شرح صحیح البخاری: قال أبو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم: «إن الله كتب على ابن آدم حظه من الزنا، أدرك ذلك لا محالة، فزنا العين النظر، وزنا اللسان المنطق، والنفس تمنى وتشتهى، والفرج يصدق ذلك كله ويكذبه،ج: 9،رقم الحدیث: 6243۔)