کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
۱۔ایک شخص نے قرآن حفظ کیا یا قرآن کا حافظ تھا پھر مصروفیات کی وجہ سے مراجعہ کا موقعہ نہیں ملا اور وہ قرآن بھول گیا، یا قرآن تو بھول گیا ہو البتہ دہرائی کرتا ہو، کیا قرآن کاحفظ کرنا اس صورت میں بھی سنت ہے جیسے پہلے تھا؟
۲۔اگرسنت ہو تو کیا یہ مذکورہ شخص ان وعیدوں کا مستحق ہوگا جن کا ذکر احادیث مبارکہ میں آیا ہے؟
۳۔ اور ان احادیث کا معنی کیا ہے جو اس شخص کے بارے میں آتی ہیں جس کو قرآن بھول گیا ہو؟
۴۔ کیاوہ شخص جس کو قرآن یاد تھا پھر بھول گیا ہو حتی کہ نماز کے لیے بھی کوئی سورت یاد نہ ہو، اور وہ شخص جس نے قرآن یاد کیا تھا اور اب چند ہی سورتیں یاد ہیں جس سے نماز ادا کرتا ہے کیادونوں برابر وعیدوں کے مستحق ہوں گے؟یا ان دونوں میں کوئی فرق ہے؟
واضح ہو کہ قرآنِ کریم کا حفظ کرنا اور اس کو دہرانا سنت عمل میں سے ہے، اس لیے کہ نبی کریم ﷺ خود بھی یاد کرتے تھے اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی یاد کراتے تھے۔ اور اتنا قرآنِ کریم حفظ کرنا جس سے نماز ادا ہو جائے، ہر مسلمان عاقل بالغ پر فرض ہے، جبکہ مکمل قرآنِ کریم حفظ کرنا فرضِ کفایہ اور باعثِ اجر و ثواب ہے۔ جبکہ قرآنِ کریم بھول جانے کے متعلق احادیثِ مبارکہ میں جو وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اگرچہ عند الاحناف ایسے لوگوں سے متعلق ہیں جو اس طور پر قرآنِ کریم بھول گئے ہوں کہ دیکھ کر بھی قرآنِ مجید نہ پڑھ پاتے ہوں، تاہم اپنی غفلت، سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے کلامِ پاک حفظ کرنے کے بعد بھول جانا بہت بڑے اجر سے محرومی اور عظیم نعمت کی ناشکری کا باعث ہے،اور سوال میں مذکور دو اشخاص میں سے اگر دوسرے شخص کو نماز میں فرض آیت کی مقدار، یعنی تین آیتیں یا اس کے برابر ایک بڑی آیت پڑھنے کے لیے بھی یادداشت نہ رہی ہو، تو وہ سخت سزا کا مستحق ہوگا،پہلےشخص کو بھی چاہیے کہ اپنی ذہنی و دماغی قوت کو ملحوظ رکھتے ہوئے روزانہ بلا ناغہ اس کو پڑھنے کا اہتمام کرے، ان شاء اللہ قرآنِ پاک یاد بھی رہے گا اور مواخذۂ اخروی سے بھی سبکدوشی حاصل ہو جائے گی۔
کما في صحيح البخاري: عن أبي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:(تعاهدوا القرآن، فوالذي نفسي بيده، لهو أشد تفصيا من الإبل من عقلها اھ( باب استذکار القرآن وتعاہدہ ج:4 ص :1921 ناشر: دار ابن کثیر)
وفي عمدة القاري: فقال: حديث أبي بشر الذي في هذا الباب وهم وأجاب عياض بأنه يحتمل أن يكون قوله: أونا ابن عشر سنين، راجعا إلى حفظ القرآن لا إلى وفاة النبي صلى الله عليه وسلم، ويكون تقدير الكلام توفي النبي صلى الله عليه وسلم وقد جمعت المحكم وأنا ابن عشر سنين، ففيه تقديم وتأخير انتهى( باب نسیان القرآن ج: 20 ص : 50 ناشر: داراحیاء الثرات العربی)
وفی الاتقان في علوم القرآن :نسيانه كبيرة صرح به النووي في الروضة وغيرها لحديث أبي داود وغيره:"عرضت علي ذنوب أمتي فلم أر ذنبا أعظم من سورة من القرآن أو آية أوتيها رجل ثم نسيها".وروى أيضا حديث: "من قرأ القرآن ثم نسيه لقي الله يوم القيامة أجذم ". اھ( فصل من آداب التلاوتہ وتالیه ج:1 ص :363 ناشر: الھیئۃ المصریة)
وفي مرقاة المفاتيح :والنسيان عندنا أن لا يقدر أن يقرأ بالنظر، كذا في شرح شرعة الإسلام، قال الطيبي: فلما عد إخراج القذاة التي لا يؤبه له من الجحور تعظيما لبيت الله، عد أيضا النسيان من أعظم الجرم ; تعظيما لكلام الله سبحانه، فكأن فاعل ذلك عد الحقير عظيما بالنسبة إلى العظيم، فأزاله عنه، وصاحب هذا عد العظيم حقيرا فأزاله عن قلبه (رواه الترمذي) ، وقال: غريب نقله ميرك، (وأبو داود) ، والمنذري، وابن ماجه، وابن خزيمة في صحيحه ذكره ميرك، قال ابن حجر: وأخرج الترمذي، وأبو داود أيضا: «من قرأ القرآن ثم نسيه لقي الله يوم القيامة أجذم» اھ ( باب المساجد ومواضع الصلاۃ ج؛2 ص : 605 ناشر : دار الفکر)
وفي الفتاوي الهندية :قراءة القرآن في المصحف أولى من القراءة عن ظهر القلب، إذا حفظ الإنسان القرآن ثم نسيه فإنه يأثم، وتفسير النسيان أن لا يمكنه القراءة من المصحف ،الخ،(ج:5 ص :317 باب الكراهية ناشر : ماجیدیہ)
وفي بدائع الصنائع: وأدنى ما يسمى المرء به قارئا في العرف أن يقرأ آية طويلة أو ثلاث آيات قصار وأبو حنيفة يحتج بالآية من وجهين: أحدهما - أنه أمر بمطلق القراءة، وقراءة آية قصيرة قراءة والثاني - أنه أمر بقراءة ما تيسر من القرآن وعسى لا يتيسر إلا هذا القدراھ(فصل فی ارکان الصلاۃ ج: 1 ص: 112 ناشر: سعید)