بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک جگہ پر ایک عمارت موجود ہے جو تقریباً چار سو سال پرانی ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ اس کی بنیاد کس نے رکھی اور یہ بھی واضح نہیں کہ ابتدا میں اسے مسجد، جنازگاہ یا عیدگاہ کے طور پر وقف کیا گیا تھا۔البتہ درج ذیل قرائن و شواہد موجود ہیں:ابتدا ہی سے اس عمارت میں محراب بنی ہوئی ہے، جو بالعموم مسجد کی پہچان ہے۔اس عمارت کے ساتھ حوض ہے، اور قدیم روایات کے مطابق پرانی مساجد میں وضو اور طہارت کے لیے باقاعدہ حوض بنایا جاتا تھا، جو مسجدکےاستعمال کی واضح علامت سمجھا جاتا ہے۔یہ عمارت ایک ولی اللہ کے مزار کے ساتھ واقع ہے، اور عرف و تاریخ کے مطابق اولیاء کرام کے مزارات کے ساتھ عموماً مساجد قائم کی جاتی تھیں، نہ کہ محض جنازگاہ یا عیدگاہ۔سرکاری محکمہ آثارِ قدیمہ نے سن 1973ء میں اس عمارت کو بطور مسجد رجسٹر کیا ہے، تاہم حالیہ طور پر محکمہ آثارِ قدیمہ کا مؤقف یہ ہے کہ یہ عمارت ایک سرکاری عمارت ہے۔اگرچہ ابتدا میں یہاں پنج وقتہ نماز کے باقاعدہ ثبوت موجود نہیں، البتہ یہ بات معلوم ہے کہ یہاں نمازِ جنازہ اور عید کی نماز ادا ہوتی رہی ہے۔گزشتہ آٹھ سال سے یہاں باقاعدہ پانچ وقت کی باجماعت نماز اور نمازِ جمعہ عام مسلمانوں کے لیے مستقل طور پر ادا کی جا رہی ہے۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ: شرعی اعتبار سے اس جگہ کا کیا حکم ہے؟کیا یہ جگہ مسجد شمار ہوگی یا محض جنازگاہ یا عیدگاہ؟
واضح ہوکہ سائل نے جس عمارت کی نشاندہی کی ہے، اگرواقعۃًاس عمارت کو سرکاری کاغذات میں بطورمسجد رجسٹر ڈ کیا جا چکا ہو، اور وہاں گزشتہ کئی سالوں سے باقاعدہ پنج وقتہ نماز باجماعت اور نمازِ جمعہ مستقل طور پر ادا کی جا رہی ہو، تو اب یہ جگہ شرعا بھی مسجد شمار کی جائے گی، اور اس پروہی احکام لاگوہونگے جو مساجد کے لیے شرعاًمقرر ہیں۔
کمافی الدر المختار: (ولو خرب ما حوله واستغني عنه يبقى مسجدا عند الإمام والثاني) أبدا إلى قيام الساعة (وبه يفتي) حاوي القدسي،الخ (كتاب الوقف، ج: 4، ص: 358، مط: سعید کراچی)
وفي منحة الخالق علی البحر الرائق: ففي الذخيرة ما نصه وبالصلاة بجماعة يقع التسليم بلا خلاف حتى إنه إذا بنى مسجدا وأذن للناس بالصلاة فيه جماعة فإنه يصير مسجدا، الخ(فصل اختص المسجد بأحكام تخالف أحكام مطلق الوقف، ج: 5، ص: 268، مط: دار الكتاب الإسلامي)
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: الوقوف التي تقادم أمرها ومات وارثها ومات الشهود الذين يشهدون عليها فإن كانت لها رسوم في دواوين القضاء يعمل عليها فإذا تنازع أهلها فيها أجريت على الرسوم الموجودة في ديوانهم، وإن لم تكن لها رسوم في دواوين القضاة يعمل عليها تجعل موقوفة فمن أثبت في ذلك حقا قضي له به،الخ (الفصل الثاني في الشهادة، ج: 2، ص: 439، مط: ماجدیۃ)