کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص چار سال سے دل کا مریض ہے تقریباً 56 سال اس کی عمر ہے، دل کی شدید تکلیف اور بیماری کی وجہ سے ڈاکٹر نے دل کو سیل لگایا ہے۔ سیل کے بغیر دل کام نہیں کرتا اور سخت کمزور ہے۔ ماہر ڈاکٹر کے کہنے پر اس نے گذشتہ رمضان کے پندرہ روزے کھائے اور پندرہ رکھے روزہ رکھنے کی صورت میں ڈاکٹر نے کہا کہ مزید بیماری بڑھ جائے گی۔ اب آپ حضرات سے پوچھنا یہ ہے کہ ان پندرہ روزوں کا فدیہ کس طرح ادا کریں اور اس رمضان میں بھی اگر روزہ رکھنے کی قدرت نہ ہو تو کیا کرے ؟ براہ کرم جو بھی حکم شرعی ہے ہو اس سے آگاہ کریں۔
اگر دوبارہ صحت ملنے کی اُمید نہ ہو اور ماہر معالج روزہ رکھنا صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیتا ہو تو ایسی صورت میں زندگی میں بھی روزوں کا فدیہ دیدینے کی گنجائش ہے ۔ اس لیے وہ گزشتہ اور اس سال کے روزوں کا بھی فدیہ دے سکتا ہے اور اس کی مقدار یہ ہے کہ وہ ہر روزہ کے فدیہ میں پونے دو سیر اور احتیاطاً دوسیر گندم یا اس کی قیمت کسی مستحق کو مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدے۔
اور اگر روزہ رکھنے کی ہمت حاصل ہو گئی تو پھر فدیہ دینا درست نہ ہوگا بلکہ فوت شدہ روزوں کی قضا رکھنا لازم ہوگا۔
ففي الدر المختار: يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة (وكذا حكم الوتر) والصوم، اھ (2/ 72)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله نصف صاع من بر) أي أو من دقيقه أو سويقه، أو صاع تمر أو زبيب أو شعير أو قيمته، وهي أفضل عندنا لإسراعها بسد حاجة الفقير إمداد. (2/ 73)
و في البحر البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (قوله وللشيخ الفاني وهي يفدي فقط) أي له الفطر وعليه الفدية اھ (2/ 308)
و في الدر المختار: ومتى قدر قضى لأن استمرار العجز شرط الخلفية اھ (2/ 427)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله شرط الخلفية) أي في الصوم أي كون الفدية خلفا عنه. (2/ 427) واللہ اعلم بالصواب