بسم الله الرحمن الرحيم، جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی ، غربی، مفتیان کرام! درج ذیل مسئلے کے بارے میں برائے مہربانی ہماری رہنمائی فرماتے ہوئے شرعی اعتبار سے فتوی جاری کیا جائے۔مسئلہ: مفتی صاحب میرے ساتھ ایک مسئلہ درپیش ہے کہ جو میں بیان کر رہا ہوں اور آپ سے درخواست ہے کہ اسلامی روح اور شرعی اعتبار سے مجھے جواب دیں تا کہ میرا جو مسئلہ ہے اس کو حل کرنے میں مجھے آسانی ہو۔میرا سوال خلع کے متعلق ہے، جس کا فیصلہ عدالت کے جج صاحب نے دیا ، جس فیصلے کی روشن میں میری رہنمائی فرمائیں، (کیس کے حقائق اور عدالتی فیصلے کی نوعیت) کہ یہ خلع ہے یا فسخ نکاح جاننا ضروری ہوتا ہے، اس لیے میں نے تمام اہم نکات کو شامل کر دیا ہے۔ مقدمے کے مختصر حقائق .. (1) نکاح :مدَّعیہ عروج فاطمہ کا نکاح مدعا علیہ صدام حسین سے 18 نومبر 2018 کو ہوا تھا۔ (2) حق مہر : نکاح کے وقت 6 تولہ سونا حق مہر طے پایا تھا، جو کہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق شوہر نے تا حال ادا نہیں کیا (3) وجہ تنازع: مدعیہ نے عدالت کو بتایا کہ شوہر اسے نان و نفقہ خرچ نہیں دیتا تھا اور تقریبا تین سال قبل اسے شدید مار پیٹ کر گھر سے نکال دیا تھا، جس کی وجہ سے وہ شوہر کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی اور اسے شدید نفرت ہو چکی ہے۔ (4) عدالتی کاروائی: عدالت نے شوہر کو متعدد بار ونوٹس بھيجے اور اخباراشتہاربھی دیا، لیکن وہ عدالت میں حاضر نہیں ہوا۔ جس پر عدالت نے شوہر کے خلاف یکطرفہ کارروائی (Ex-parte) عمل میں لائی ۔ (5) عدالتی فیصلہ اور ڈگری : مدعیہ بیوی نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ اپنے حق مہر 6 تولہ سونے کے بدلے خلع لینا چاہتی ہے ۔ چونکہ مہر ابھی تک شوہر نے بیوی کو دیا ہی نہيں تھا، اس لیے بیوی نے اس غیر ادا شدہ مہر سے دستبرداری کے عوض خلع اختیار کی ۔عدالت نے تمام بيانات اور ثبوتوں كى روشنى ميں 25 ستمبر 2024 كو فيصلہ سنايا كہ: مسماۃ عروج فاطمہ اور صدام حسین کے درمیان نکاح کو بطور خلع ختم کیا جاتا ہے۔ یہ خلع اس مہر کے عوض دی گئی ہے جو ابھی تک شوہر کے ذمہ واجب الادا تھا، یعنی اب بیوی اس مہر کا مطالبہ نہیں کر سکے گی . عروج فاطمہ دختر صغیر حسین اور صدام حسین ولد غلام قاسم اس طرح مہر کے بدلے خلع کو تحلیل کر رہے ہیں جو ابھی تک ادا نہیں ہے۔ مدعی کے مقدمے میں لاگت کا کوئی حکم نہیں تھا۔ لہذا قرآن وسنت کی روشنی میں شرعی اعتبار سے میرے سوال کا تفصیلاً جواب دیا جائے تا کہ میری رہنمائی ہو سکے۔ جس کےلیے ہم آپ کے بے حد ممنون اور مشکور ہونگے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند کرے۔ آمین.
نوٹ: لڑکی کے والد مسمی صغیر حسین نے حلفیہ بیان دیا کہ جب ہم عدالت میں خلع کا کیس فائل کیا اور شوہر کو عدالت کی جانب سے نوٹس جاری ہوا ۔ تو نوٹس ملنے پر انہوں نے ہمارے وکیل کو باقاعدہ فون، ميسج کے ذریعہ یہ پیغام دیا کہ اس معاملہ کو جلد از جلد نمٹا دیں۔ اور وہ میسج میں نے خود سنا ہے، لیکن موبائل میموری ڈيليٹ ہونے کی وجہ سے اب وہ میسج میرے پاس محفوظ نہیں رہا ۔ البتہ میں متعلقہ بندے سے بات کروا سکتا ہے ۔ صغیر حسین -
سوال ميں بيان كرده تفصيل كے ساتھ بطور نوٹ سائلہ كے والد كے حلفيہ بيان كے مطابق اس كے داماد نے واقعةً عدالتى نوٹس ملنے كے بعد سائلہ كے وكيل كے ساتھ بات چيت كے دوران مذكور جملہ " خلع كا يہ معاملہ جلد از جلد نمٹا ديں" اگر خلع كے ذرىعہ نكاح ختم كرنے كے لىے رضامندى کے طورپر استعمال كىا ہو، تو ان كى طرف سے اس رضامندى كے بعد عدالت كے ذريعہ كيا جانے والا خلع كا فيصلہ بھى شرعا درست ہوكر سائلہ پر اىك طلاق بائن واقع ہوچكى ہے، اس كے بعد رجوع نہيں ہو سكتا، اور سائلہ اب عدت مكمل ہوجانے كے بعد كسى بھى دوسرى جگہ نكاح كرنے ميں آزاد ہوگى.
کما فی أحکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع ( الی قوله ) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها الخ (ج:2، ص: 239-240-241، ط: دار الكتب العلمية بيروت-لبنان)
وفی الحیلة الناجزة: وأما المتعنت الممتنع عن الاتفاق ففی مجموع الأمیر ما نصه: (وإن منعها نفقة الحال...فلها القیام فان لم یثبت عسره انفق أو طلق، وإلا طلق علیه، قال محشيه: أی طلق عليه الحاکم من غیر تلوم الخ (ص: 227) ( ضوء الشموع شرح المجموع للأمير محمد السنباوي المالكي، باب النفقة، ج: 2، ص: 541، ط: دار يوسف بن تاشفين، مكتبة الإمام مالك موريتانيا، نواكشوط )
وفی الهندية: ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق وفي الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها كذا في الهداية.وإن شكت في وقت موته فتعتد من حين تستيقن بموته كذا في العتابية.الخ (کتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدة، ج: 1، ص: 531-532، ط: مكتبة ماجدية)