اگر کسی مسلمان میں ہم جنس کے جذبات ہیں جن کا انتخاب اس نے نہیں کیا تو اسلام ایسے شخص کے لیے کیا رہنمائی فراہم کرتا ہے، اور معاشرے کو ان کے ساتھ رحم اور احترام کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے؟ اور کیا سزا ہو سکتی ہے اگر کوئی شخص مجرم ہے؟
ہم جنس پرستی یعنی مرد کا مرد سے عورت کا عورت سے اپنی خواہش پوری کرنا ایک بہت ہی سنگین اور سخت ترین گناہ ہے جس کے بارے میں قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں بہت سخت وعیدیں آئی ہیں،اور اس گناہ کی وجہ سے اللہ نے قوم لوط کی پوری بستی کو تباہ فرما دیا تھا، اور بعض روایات میں ایسے مجرم کی سزا قتل کرنا ، پہاڑ سے گرانا،آگ سے جلانا،اس پر دیوار گرانا، وغیرہ بھی بیان ہوئی ہے ،لیکن یہ تمام سزائیں دینے کا اختیار قانون کے مطابق حاکم وقت یا اس کے منتخب فرد کے پاس ہے، عام عوام کے پاس نہیں ،لہذا اولاً تو ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہم جنس پرستی جیسے سخت ترین گناہ سے اپنے آپ کو بچائےاور جائز نکاح کے ذریعے اپنی خواہش پوری کرنے کا اہتمام کرے،اور اگر کوئی شخص اس جرم کا عادی ہو تو اس کے دیگر رشتہ داروں پر لازم ہے کہ اسے اس گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے روکنے میں کردار ادا کریں،بصورت دیگر ایسے شخص کے ضرر اور شر سے بچنے کیلئے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی جاسکتی ہے۔
کما فی سنن الترمذی: عن عكرمة عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من وجدتموه يعمل عمل قوم لوط، فاقتلوا الفاعل والمفعول به،( باب ما جاء في حد اللوطي،ج: 3،ص: 283،رقم الحدیث: 1523،مط: دار الرسالۃ العالمیه۔)
و فی مسند اٰحمد: عن ابنِ عباس أن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال: "لعن الله من غيَّر تَخُوم الأرضِ، لعَن الله من ذبح لغير الله، لعن الله من لعن والديه، لعن الله من تولَّى غير مواليه، لعن الله من كَمَه أعمى عن السبيل، لعن الله من وِقَعِ على بهيمة، لعن الله من عَمل عَمَلَ قوم لوط، لعن الله من عمل عملَ قومِ لوطٍ"، ثلاثاً،(ج: 3،ص: 282،رقم الحدیث: 2914،مط: دار الحدیث)
و فی تبیین الحقائق: ولنا أنه ليس بزنا لاختلاف الصحابة في موجبه مع علمهم بحكم الزنا فمن مذهب أبي بكر الصديق رضي الله عنه أن يحرقا بالنار ومذهب ابن عباس أن يعلى بهما أعلى مكان من القرية ثم يلقيا منكوسين لقوله تعالى {فجعلنا عاليها سافلها وأمطرنا عليهم حجارة من سجيل} [الحجر: 74] ومذهب ابن الزبير أن يحبسا في أنتن المواضع حتى يموتا نتنا وكان علي يقول حكمه حكم الزنا من الجلد والرجم وعن بعضهم يهدم عليهما جدار كل ذلك بالاجتهاد والحدود لا تثبت به ولا بخبر الواحد وكذا عند أهل اللغة لا يسمى هذا زنا وإنما يسمونه لواطة،اھ(كتاب الحدود،باب الوطء الذي يوجب الحد والذي لا يوجبه، ج: 3،ص: 181،مط: دار الکتاب الاسلامی )