السلام علیکم، اگر کسی عورت کا سسرال اور شوہر اسے جسم فروشی جیسے گھناؤنے گناہ میں دھکیل رہے ہوں اور وہ عورت وہاں سے خود کو بچا کر نکل آئے، اس کے بعد وہ خلع کے لیے عدالت سے رجوع کرے تو کیا اس کا خلع لینا جائز ہوگا؟ دوسری بات، اس تمام بات میں میں خود گواہ ہوں، میں اچھی طرح تصدیق کر چکا ہوں کہ وہ لڑکی سچ بول رہی ہے۔ اسے اپنے گھر آئے ہوئے 8 سال ہو گئے ہیں۔ اس کے شوہر سے بات کرنے پر وہ کہتا ہے کہ عدالت سے جا کر لے لو۔
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃ ً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو مذکور عورت کے شوہر اور سسرالیوں کا عورت کو جسم فروشی پر مجبور کر نا ناجا ئز اور حرام عمل ہے جسکی وجہ سے میں شرعًا سارے افراد گناہ گار اور مستحق سزا ٹھہرے ہیں، ان پر لازم ہے کہ اپنے اس گھناؤنے عمل پر اللہ تعالی کے حضور بصدق دل توبہ تائب ہو کر اس سے باز آجائیں لیکن اگر وہ مذکو ر طرز عمل سے بازنہ آئے تو مذکور عورت کو چاہیئے کہ کسی طرح شوہر کو طلاق پر آمادہ کرکے اس سے علیحدگی اختیا کرے تاہم اگر وہ کسی بھی طرح طلاق دینے پرآمادہ نہ ہو اور خلع کے ذریعے اس رشتے کو ختم کرنا چاہتا ہو تو ( جیساکہ سوال سے بظاہر معلوم ہو رہا ہے ) حق مہر کی معافی وغیرہ کے ذریعے باہمی رضامندی سے یا شوہر کی اجازت سے بذریعہ عدالت خلع لیکر اس رشتے سے خلاصی حاصل کرسکتی ہے ۔
وفی قو لہ تعالی فان خفتم ان لا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فی ما افتدت بہ ( سورۃ البقرہ 229)
کما فی المبسوط للسرخسی : والخلع جائز عند السلطان وغیرہ لانہ عقد یعتمد التراضی کسائر العقود وہو بمنزلۃ الطلاق (ج:6 باب الخلع ص: 173 ناشر: المطبعۃ السعادۃ)
وفی رد المختار :خلعھااو طلقہا بخمراو خنزیر او میتۃ ونحوھا مما لیس بمال وقع طلاق بائن فی الخلع (ج:3 ص:446 فائدة في شرط قبول الخلع ،ناشر :سعید)
وفی فتح القدیر: واذا تشاق الزوجان وخافا ان لا یقیما حدود اللہ فلا باس بان تفدی نفسہا منہ بمال یخلعہا(ج:4 ص :211 باب الخلع ،ناشر رشیدیہ)