السلام علیکم ورحمتہ الله و برکاتہ
ان شاء الله تعالیٰ رمضان المبارک میں حرمین شریفین حاضری کا ارادہ ہے......آ پ سے دعاؤں اور کچھ مسائل میں رہنمائی کی درخواست ہے۔
رمضان میں حرمین کی جماعت میں وتر میں شامل ہوسکتے ہیں؟وتر میں نہ شامل ہونے کی صورت میں امام صاحب کے ساتھ جو وتر کی آخری رکعت میں دعائے قنوت پڑھی جاتی ہے اس دعا میں کیسے شامل ہوسکتے ہیں؟
حرمین میں تراویح کی صرف دس رکعات ہوتی ہیں ،باقی دس رکعات خود مکمل کرنی ہوگی؟
حرمین میں تراویح میں مکمل قرآن کریم نہیں پڑھا جاتا،قرآن کریم کا کچھ حصّہ آخری عشرے میں تہجد میں مکمل کیا جاتا ہے،تو کیا تہجد کی جماعت میں تراویح کی نیت سے شریک ہوسکتے ہیں؟
اگر تہجد میں تراویح کی نیت سے اقتداء نہیں کر سکتے تو مکمل قرآن مجید کی سماع کی سنت کیسے پوری ہوگی؟
تراویح کی آخری رکعت میں ٢٩ شب کو دعائے ختم القرآن کروائی جاتی ہے،اس میں شریک ہوسکتے ہیں؟اور کیا ہاتھ اٹھا کر یا کس طرح دعا مانگی جاۓ؟کیا ہر دعا کے بعد امین بھی کہنا ہے یا صرف دل میں کہنا ہے؟
محرم کو حالت احرام میں نماز پڑھتے ہوۓ کیا سر ڈھاکنا درست ہے؟
اگر ہم تہجد کی نماز میں شریک نہیں ہوتے تو تلاوت کے وقت اپنی تلاوت کرنا یا دعائیں مانگنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ حنفی مسلک میں وتر کی نماز تین رکعت ایک سلام کے ساتھ پڑھنا لازم ہے،لہذا حنفی مسلک سے تعلق رکھنے والے مقتدی کو چاہیئے کہ تراویح سے فارغ ہونے کے بعد وتر کی نماز علیحدہ ادا کرے۔
2: بقیہ دس رکعات تراویح جماعت کے ساتھ یا تنہا پوری کرلی جائے۔
3: احناف کے ہاں نفل کی جماعت مکروہ ہے، لہذا قیام اللیل کے نام سے نفل کی جماعت قائم کرنے یا اسمیں شرکت کرنے سے اجتناب کرنا چاہیئے،البتہ اگر تراویح کی نماز قیام اللیل کے نام سے قدر تاخیر سے پڑھی جائے تو ایسا کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہوگا۔
4: : تراویح کی بقیہ دس رکعات میں کسی حافظ صاحب سے رہ جانے والے قرآن کے سننے کی ترتیب بنالی جائے۔
5: جی ہاں انتسویں شب کو تراویح میں شرکت کی جاسکتی ہے، اور دعائے ختم القرآن میں بھی شامل ہوا جاسکتا ہے، البتہ ہاتھ اٹھائے بغیرآہستہ آواز سے آمین کہنا چاہیئے۔
6: احرام کی حالت میں سر ڈھکنا درست نہیں، اس لیئے نماز پڑھتے وقت بھی سر کو کھلا رکھنا چاہیئے۔
7: تہجد کی نماز کے وقت نفلی نماز اداء کرنا، قرآن مجید کی تلاوت، ذکر و اذکار یا دعاؤں کا اہتمام کرنابلاشبہ جائز ہے، اور اپنی سہولت اور ضرورت کےمطابق کوئی بھی عمل کیا جاسکتا ہے۔
و فی بحرالرائق: فظهر بهذا أن المذهب الصحيح صحة الاقتداء بالشافعي في الوتر إن لم يسلم على رأس الركعتين وعدمها إن سلم ( باب الوتر والنفل، ج: 2، ص: 43، ط: دارالکتاب الاسلامی)
وفی البنایہ: النفل بالجماعة مكروهة ما خلا قيام رمضان وصلاة الكسوف لأنه لم يفعلها الصحابة، ولو فعلوا لاشتهرت، كذا ذكره الولوالجي ( باب صلاۃ الوتر جماعۃ فی غیر الرمضان، ج: 2، ص: 557، ط: دارالکتب العلمیہ)
و فی العنایہ: وأما إذا كان في التطوع فهو حسن لحديث «حذيفة رضي الله عنه قال صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الليل فما مر بآية فيها ذكر الجنة إلا وقف وسأل الله الجنة، وما مر بآية فيها ذكر النار إلا وقف وتعوذ بالله من النار ( باب صفۃ الصلاۃ، ج: 1، ص: 342، ط: دارالفکر)