۱۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری مسجد تھی چھوٹی سی پرانی اور لوگ اس میں نہیں سما رہے تھے ، کچھ عرصہ کے بعد کسی آدمی نے جگہ دی، لیکن پرانے مسجد کے نقشہ کی طرف سے ہٹ کر اب پریشانی یہ ہے کہ لوگ محراب کو وہی رہنے دیتے ہیں، جو پرانی ہے تو حدیث "توسطوا الامام" کی مخالفت لازم آتی ہے اور اگر محراب درمیان میں رکھتے ہیں تو پرانے محراب کے ساتھ والی صف ہم سے ضائع ہو جائیگی، حالانکہ ہمیں جگہ کی شدید ضرورت ہے۔ لہٰذ امہربانی فرما کر ہماری راہ نمائی فرمائیں۔
امام کا صف کے درمیان کھڑا ہونا جہاں سے مسجد کی دونوں طرف کا فاصلہ برابر ہو سنت ہے ، اور بلا ضرورت وسط کو چھوڑنا مکروہ ہے۔
صورت مسئولہ میں اگر توسط محراب کی کوئی صورت نکل سکتی ہو تو حتی الامکان مخالفت سنت سے بچنے کی سعی کی جائے، البتہ عند الضرورة وسط سے ہٹ کر محراب بنانے کی گنجائش ہے۔ والله اعلم بالصواب
قال حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ويقف وسطا) قال في المعراج: و في مبسوط بكر: السنة أن يقوم في المحراب ليعتدل الطرفان، ولو قام في أحد جانبي الصف يكره، ولو كان المسجد الصيفي بجنب الشتوي وامتلأ المسجد يقوم الإمام في جانب الحائط ليستوي القوم من جانبيه والأصح ما روي عن أبي حنيفة أنه قال: أكره أن يقوم بين الساريتين أو في زاوية أو في ناحية المسجد أو إلى سارية لأنه خلاف عمل الأمة. قال - عليه الصلاة والسلام - «توسطوا الإمام وسدوا الخلل» اھ (1/ 568)
وقال ايضا : السنة أن يقوم الإمام إزاء وسط الصف، ألا ترى أن المحاريب ما نصبت إلا وسط المساجد وهي قد عينت لمقام الإمام اهـ. (1/ 568)
قال في الفتاوى الهندية: وينبغي للإمام أن يقف بإزاء الوسط فإن وقف في ميمنة الوسط أو في ميسرته فقد أساء لمخالفة السنة هكذا في التبيين اھ (1/ 89)