میں اپنے شوہر کی تیسری بیوی تھی۔میں نے 2021 میں اپنے شوہر سے کورٹ سے خلع لی۔ یکطرفہ فیصلہ ہوا کیونکہ میرے شوہر کورٹ میں پیش ہوئے ہی نہیں۔مجھ سے خلع کے بعد میرے شوہر نے اپنی پہلی سابقہ بیوی سے حلالہ کے بعد دوبارہ نکاح کردیا اس بیوی سے انکے 5 بچے بھی ہیں۔ اب تقریبا 4 سال بعد ہم میں صلح ہوئی ہے۔ میرے شوہر کا کہنا تھا کہ ایجاب و قبول سے ہم شرعی حیثیت میں ایکدوسرے پر حلال ہو جاتے ہیں۔ ہم نے اللہ کو گواہ کر کے ایجاب و قبول کیا۔ اس کے بعد ہمارا جسمانی تعلق بھی قائم ہوا۔ اب میرے شوہر واپس لاہور چلے گئے ہیں ۔ اپنے کاروباری معاملات کی وجہ سے۔ لاہور میں انکی بیوی بچے موجود ہیں۔ وہ ان کی قانونی بیوی ہے۔ مگر ان دونوں کا کوئی جسمانی تعلق نہیں ہے۔ وہ انکے کسی طرح کے حقوق پورے نہیں کرتی۔ اسی لیے میرے شوہر اس سے بد دل ہو چکے ہیں۔میرے شوہر کا کہنا ہے کہ وہ کچھ عرصے تک کراچی واپس آئیں گے۔ آپ سے سوال یہ ہے کہ ایسے ایجاب و قبول کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا اسکے بعد قائم ہوا جسمانی تعلق حلال ہے؟ کیا میں شرعی طور پر اب ان کی بیوی ہوں؟ اور کیا اب ہم دونوں کو پھر سے تجدید نکاح کرنا ہوگا؟ مطلب جیسے پہلی بار نکاح خواں، اور گواہوں کی موجودگی میں شرعی و قانونی نکاح ہوا تھا۔ پھر سے کرنا ہوگا؟ پلیز مجھے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس سارے معاملے پر آپ کا فتوی درکار ہے۔
واضح ہو کہ خلع کی درستگی کے بعد نکاح ختم ہوجانے کی صورت میں اسے بحال کرنےکیلئے میاں بیوی کا گواہان کے بغیر آپس میں ایجاب وقبول کرنا کافی نہیں بلکہ باقاعدہ اس طرح تجدید نکاح ضروری ہوتا ہے جیساکہ ابتداء سے نکاح ہوتاہے، تاہم خلع کی درستگی کیلئےچونکہ شوہر کی رضامندی ضروری ہے اس کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ خلع سے نکاح ختم نہیں ہوتا ، اس لئے سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائلہ نے اگر شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت سے خلع لیا ہو ،اور عدالت نے یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کردی ہو تو اس سے سائلہ کا نکاح اپنے شوہر سے ختم نہیں ہوا ، بلکہ وہ بدستور اپنے شوہر کے نکاح میں ہے، لہذا اب ساتھ رہنے کیلئے تجدید نکاح کی ضرورت نہ ہوگی بلکہ حسب سابق وہ دونوں ازدواجی حیثیت سے ساتھ رہ سکتے ہیں۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنھما لا يجوز خلعھما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان و إنما الحكمان وكيلان لھما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع ( الی قولہ ) وکیف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها الخ۔ ( باب الحکمین کیف یعملان ،ج: 2، ص: 191، ط: سھیل اکیڈمی)۔۰
وفی البدائع: و أما رکنہ فھو الإیجاب و القبول لأنہ عقد علی اللطلاق بعوض فلا تقع الفرقۃ و لایستحق العوض بدون القبول الخ۔ (باب الخلع، ج: 3، ص: 145، ط: سعید)۔
وفی الدر: (و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)على الاصح (فاهمين) أنه نكاح على المذهب.بحر (مسلمين لنكاح مسلمة ولو فاسقين أو محدودين في قذف أو أعميين أو ابني الزوجين أو ابني أحدهما الخ (کتاب النکاح، ج:3، ص: 23، ط: سعید)۔