میرا نام Zunaira ہے اور میری عمر __25_ سال ہے۔ میری ازدواجی زندگی میں شدید مسائل پیدا ہو گئے تھے کیونکہ میرے شوہر اپنا زیادہ تر وقت اپنی پہلی بیوی کے ساتھ گزارتے تھے۔ اُن کی پہلی بیوی سے اُن کی کوئی اولاد بھی نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود وہ مجھے برابر کا وقت اور توجہ نہیں دیتے تھے۔ میں نے اُن سے متعدد بار درخواست کی کہ وہ میرے ساتھ انصاف کریں اور مجھے بھی برابر وقت دیں، مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ جب میں یہ سب مزید برداشت نہ کر سکی تو میں نے عدالت سے خلع لے لیا۔ تاہم وہ اب بھی اس بات پر اَڑے ہوئے ہیں کہ خلع اُس وقت تک مؤثر نہیں ہوتا جب تک شوہر خود طلاق نہ دے، اور اُن کا کہنا ہے کہ میرے لیے دوبارہ نکاح کرنا یا کوئی اور قدم اٹھانا جائز نہیں ہوگا
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کی صحت کے لئے شرعا ًمیاں بیوی کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے جوکہ عموما یکطرفہ عدالتی خلع میں مفقودہوتی ہے۔لہذا سائلہ نے اگر فقط وقت اور حقوق میں عدم مساوات کی وجہ سے یہ خلع کا دعویٰ دائر کیا ہو ، اور اسی بنیاد پر عدالت نے شوہر یا اس کی جانب سے مقرر کردہ وکیل کی اجازت و رضامندی کے بغیر اس کے حق میں یکطرفہ خلع کا فیصلہ سنایا ہوتو اس سے سائلہ کا نکاح شرعاًاپنے شوہر کے ساتھ ختم نہیں ہوا بلکہ بدستور برقرار ہے، اور اس یکطرفہ فیصلہ کی بنیاد پر سائلہ کے لئے دوسری جگہ نکاح کرنا بھی درست نہ ہوگا، تاہم میاں بیوی کا اگر آپس میں نباہ اور خانہ آبادی مشکل ہو تو بہتر یہ ہے کہ سائلہ کا شوہرسائلہ کو طلاق بالمال یا باضابطہ شرعی طریقے سے خلع دیکر آزاد کردے تاکہ ہر ایک اپنے مستقبل کے لئے فیصلہ میں آزاد ہو۔
كما في احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يمكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والأخروكيل الزوج في الخلع (الى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخر جا المال من ملكها اھ ( باب الحکمین کیف یعملان، ج :2، ص:191،مط:سھیل اکیڈمی لاھور)
وفي المبسوط لشمس الدين السرخسي : (قال) والخلع جائز عند السلطان وغيره لانه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود وهو منزلة الطلاق الخ ( باب الخلع ،ج: 6ص:173،مط:دار الفکر)
وفی التاتار خانیۃ:الخلع عقد یفتقر الی الایجاب والقبول یثبت الفرقۃ و یستحق علیھا العوض الخ(الفصل السادس العشر فی الخلع،ج:5،ص:5،مط:مکتبہ رشیدیہ)