ہم گھر کے پانچ افراد نے عمرہ کی ادائیگی کے لیے سفر کیا اور ادائیگی کے بعد واپس گھر آگئے ہیں،
یہاں آکر ایک بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ہمیں تو پاکستان سے احرام باندھ کر یا پھر میقات سے پہلے دوران پرواز احرام باندھ کر عمرہ کے لیے جانا چاہیے تھا، لیکن ہم لوگوں نے جدہ ایئرپورٹ پر احرام پہنا۔
سوال: کیا ہمارے عمرہ کی ادائیگی ہو گئی اگر یہ غلطی بھی ہے تب بھی؟
سوال: کیا کوئی کفارہ اداکرنے پر اتفاق کیا جا سکتا ہے یا پھر عمرہ ادائیکی کےلیے سفر کرنا چاہیے؟
سائل اور اس کے اہل خانہ کا اگر پاکستان سے ابتداء مکہ مکرمہ جانے کا ہی قصد وارادہ تھا، تو ایسی صورت میں سائل اور اس کے اہل خانہ کے لیئے میقات سے گزرنے سے قبل احرام باندھنا لازم تھا، لیکن اگر سائل اور اس کے اہل خانہ نے میقات سے پہلے احرام نہ باندھا بلکہ جدہ سے احرام باندھ کر عمرے کی ادائیگی کی ہو، تو ایسی صورت میں اگرچہ عمرہ تو سب کا اداء ہوچکا ہے، دوبارہ عمرہ کے لیئے سفر کرنا ضروری نہیں، تاہم بغیر احرام کے میقات سے گزرنے کی وجہ سے سائل اور اس کے اہل خانہ پر دم لازم ہوچکا ہے ، لہذا سائل اور اس کے اہل خانہ کو چاہیئے کہ کسی ذریعے حدود حرم میں جانور ذبح کرواکر دم ادا کرنے کا اہتمام کریں۔
کما فی غنیۃ الناسک: افاقی مسلم مکلف اراد دخول مکۃ او الحرم ولو لتجارۃ او سیاحۃ وجاوز اخر مواقیتہ غیر محرم ثم احرم او لم یحرم اثم ولزمہ دم وعلیہ العود الی میقاتہ الذی جاوزہ او الی غیرہ اقرب او ابعد والی میقاتہ الذی جاوزہ افضل، وعن ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی: ان کان الذی یرجع محاذیا لمیقاتہ الذی جاوزہ او ابعد منہ سقط الدم و الا فلا، فان لم یعد ولا عذر لہ اثم اخری لترکہ العود الواجب اھ ( فصل فی مجاوزۃ الافاقی وقتہ،ص: 60، ط: ادارۃ القرآن)
وفی رد المحتار تحت قوله: ( كما إذا جاوز الميقات بلا إحرام) أي فإنه يجب عليه أن يعود إلى الميقات ويلبي منه، وكذا يجب عليه قبل المجاوزة قال في الهداية ثم الآفاقي إذا انتهى إلى المواقيت على قصد دخول مكة عليه أن يحرم قصد الحج أو العمرة عندنا أو لم يقصد لقوله صلى الله عليه وسلم «لا يجاوز أحد الميقات إلا محرما ولو لتجارة» ولأن وجوب الإحرام لتعظيم هذه البقعة الشريفة، فيستوي فيه التاجر والمعتمر وغيرهما اهـ. کتاب الحج، ج: 2، ص: 455، ط: سعید )
وفیہ ایضا: إذا جاوز الميقات بلا إحرام فإنه يجب عليه العود إلى الميقات ويلبي منه، ويكون إحرامه حينئذ واجبا ( کتاب الحج، ج: 2، ص: 456، ط: سعید)