اگر کسی شخص کو احتلام (ویٹ ڈریم) ہو، لیکن انزال کے عین وقت پر وہ بیداری کی حالت میں آ جائے اور انگلیوں کی مدد سے عضوِ تناسل کے دہانے کو دبا کر منی کے اخراج کو روک لے،تو کیا پھر بھی غسل فرض ہوگا؟خاص طورسے اگر انزال کی جسمانی کیفیت اندرونی طور پر محسوس ہو، لیکن منی حقیقتاً جسم سے خارج نہ ہو اور نہ ہی کپڑوں وغیرہ پر کوئی نشان ظاہر ہو، تو کیا اسلامی فقہ کے مطابق جنابت کی حالت قائم ہو جاتی ہے اور غسل واجب ہو جاتا ہے؟
واضح ہو کہ احتلام ہوجانے کی صورت میں اگر عین انزال کے وقت آنکھ کھل جائےاور آدمی عضو تناسل کودبادے جس کی وجہ سے منی اس وقت تو نہ نکلے، لیکن بعد میں بغیر شہوت کے نکل آئے، تب بھی اس پرغسل لازم ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (وفرض) الغسل (عند) خروج (مني) من العضو وإلا فلا يفرض اتفاقا؛ لأنه في حكم الباطن ،(سنن الغسل ج:1، ص: 159، مط: سعید)
وفی رد المحتار تحت قولہ: (من العضو): هو ذكر الرجل وفرج المرأة الداخل احترازا عن خروجه من مقره ولم يخرج من العضو بأن بقي في قصبة الذكر أو الفرج الداخل، (مطلب سنن الغسل، ج:1، ص: 159، مط: سعید)
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: وتعتبر الشهوة عند انفصاله عن مكانه لا عند خروجه من رأس الإحليل. كذا في التبيين. إذا احتلم أو نظر إلى امرأة فزال المني عن مكانه بشهوة فأمسك ذكره حتى سكنت شهوته ثم سال المني عليه الغسل عندهما وعند أبي يوسف لا يجب. هكذا في الخلاصة.(الی قولہ): إذا احتلم الرجل وانفصل المني من موضعه إلا أنه لم يظهر على رأس الإحليل لا يلزمه الغسل. كذا في فتاوى قاضي خان. (الفصل الثالث في المعاني الموجبة للغسل، ج: 1، ص: 14، مط: ماجدیۃ)