السلام علیکم، مفتی صاحب! کیسے ہیں؟ خیریت ہے؟ اچھا مفتی صاحب! میرا مسئلہ یہ ہے کہ ایک عورت ہے، اُس کا حمل ساقط ہو گیا۔ اور ابھی اس کو چھ مہینے تک حیض نہیں آیا اور ابھی اس کو حیض آیا ہے ،تو چھوٹے چھوٹے قطرے آتے ہیں خون کے، وہ نہاتی ہے، پھر بھی دو دو، تین تین قطرے اس کے کپڑوں کے ساتھ لگے ہوتے ہیں، اور اس کے بارے میں بھی روزے کا اور نماز کے کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ مىں اگر مذكوره خاتون كو ىہ قطرے تىن دن تىن رات سے كم آكر رك گئے ہوں اور پندره دنوں تك دوباره نہ آئے ہوں تو ىہ استحاضہ شمار ہوگا، حيض نہىں، البتہ اگر تىن دن تىن رات سے خون بڑھ چكا ہو تو ايسى صورت مىں اب ىہ حيض كہلائے گا، چنانچہ اگر ىہ خون عادت كے دن سے تجاوز كرجائے ، لىكن دس دنوں سے نہ بڑھے تو ىہ تمام أيام حيض كے شمار ہوں گے، اور ىوں سمجھا جائے گا كہ عورت كى عادت بدل گئى، لىكن اگر ىہ خون دس دن سے بھى تجاوز كرجائے تو عا دت كے أيام تو حيض كے شمار ہوں گے، جبكہ اس سے زائد جتنے بھى أيام ہوں ، وه استحاضہ كے أيام كہلائىں گے.
واضح ہوكہ استحاضہ كے أيام مىں نماز اور روزوں كى ادائىگى يا بعد مىں ان أيام كى قضا لازم ہوگى، البتہ أيام حيض كے روزوں كى قضا تو لازم ہے، نمازوں كى قضا نہىں.
كما في الهندية: الطهر المتخلل بين الدمين والدماء في مدة الحيض يكون حيضا.اهـ (كتاب الطهارة، الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء،الفصل الأول في الحيض، ج: 1، ص: 36، ط: مكتبة ماجدية)
وفيها أيضا: (منها) أن يسقط عن الحائض والنفساء الصلاة فلا تقضي. هكذا في الكفاية إذا رأت المرأة الدم تترك الصلاة من أول ما رأت قال الفقيه وبه نأخذ. كذا في التتارخانية ناقلا عن النوازل وهو الصحيح. كذا في التبيين. (إلى قوله) (ومنها) أن يحرم عليهما الصوم فتقضيانه هكذا في الكفاية.اهـ (ج: 1، ص: 38)
وفي بدائع الصنائع: (وأما) صاحبة العادة في الحيض إذا كانت عادتها عشرة فزاد الدم عليها فالزيادة استحاضة، وإن كانت عادتها خمسة فالزيادة عليها حيض معها إلى تمام العشرة لما ذكرنا في المبتدأة بالحيض، وإن جاوز العشرة فعادتها حيض، وما زاد عليها استحاضة لقول النبي صلى الله عليه وسلم «المستحاضة تدع الصلاة أيام أقرائها» أي: أيام حيضها، ولأن ما رأت في أيامها حيض بيقين، وما زاد على العشرة استحاضة بيقين، وما بين ذلك متردد بين أن يلحق بما قبله فيكون حيضا، فلا تصلي، وبين أن يلحق بما بعده فيكون استحاضة فتصلي، فلا تترك الصلاة بالشك.اهـ (الاستحاضة وأحكامها، ج: 1، ص: 41، ط: إيج إيم سعيد)