کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں نمازِ جنازہ کے بعد اور صفوف توڑنے کے بعد جنازگاہ میں میت کیلئے اجتماعی دعا کرتے ہیں ،کیا یہ شریعتِ کی رو سے صحیح ہے ،جواب باحوالہ دیجئے۔
نمازِ جنازہ چونکہ خود دعاء ہے، اس لیے اس سے فراغت کے فوراً بعد انفرادی یا اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھاکر دعا کرنے کا کوئی جواز نہیں اور نہ ہی اس عمل کا قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے کوئی ثبوت ملتا ہے۔ آنحضرتﷺ، حضرات صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین نے ایک دو نہیں سینکڑوں ، بلکہ ہزاروں جنازے پڑھے اور پڑھائے ہیں ، مگر کسی سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے نمازِ جنازہ سے فارغ ہونے کے فوراً بعد دعا مانگی ہو یا دعا مانگنے کےلیے کہا ہو۔یہی وجہ ہے کہ حضرات فقہاءِ کرام نے نمازِ جنازہ کے بعد دعا کرنے کو ممنوع اور مکروہ تو کہا ہے، مگر جائز یا سنت کسی ایک نے بھی نہیں کہا ۔
کما فی المرقاۃ : ولا يدعو للميت بعد صلاة الجنازة لأنه يشبه الزيادة في صلاة الجنازة اھ (المشی بالجنازۃ الخ، ج: 4، ص: 170،رقم : 1687،م: حقانیۃ )
و فی المحیط البرھانی : ثم يكبر الرابعة ويسلم تسليمتين؛ لأنه جاء أوان التحلل وذلك بالسلام، ثم في ظاهر المذهب ليس بعد التكبيرة الرابعة دعاء سوى السلام اھ (الفصل الثانی و الثلاثون الجنائز، ج: 2، ص: 179، م: دارالعلمیۃ بیروت )
وفي تبيين الحقائق : ولم يذكر المصنف بعد الرابعة سوى التسليمتين، وهو ظاهر المذهب اھ (باب الجنائز، ج: 1، ص: 575،576، م: دارالکتب العلمیۃ )
وفی البحر : ومن المأثور حديث عوف بن مالك أنه «صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على جنازة الخ رواه مسلم وقيد بقوله بعد الثالثة؛ لأنه لا يدعو بعد التسليم كما في الخلاصة الٰی قولہ وأشار بقوله وتسليمتين بعد الرابعة إلى أنه لا شيء بعدها غيرهما وهو ظاهر المذهب اھ ( کتاب الجنائز، ج: 2، ص: 183، م: رشیدیۃ )