خلع

بیوی کا کسی غیر مرد کے ساتھ بھاگ جانے کے بعد خلع کا دعوی کرنا

فتوی نمبر :
92488
| تاریخ :
2026-02-22
معاملات / احکام طلاق / خلع

بیوی کا کسی غیر مرد کے ساتھ بھاگ جانے کے بعد خلع کا دعوی کرنا

(1) اگر کوئی عورت عدالت سے خلع لے لے، یا نکاح پر نکاح کرے تو کیا حکم ہے؟ جبکہ اس کے پہلے شوہر کو کچھ بھی عدالت کی طرف سے نوٹس نہ ملا ہو، عورت خود کہتى ہے كہ میں نے خلع لے لى ہے،
(2) اس صورت میں جہیز کے سامان کا کیا حکم ہے اور جو چیز گفٹ کی صورت میں ہو تو اس كا کیا حکم ہے؟
(3) ایک گھر 2016 میں 800000 کا ہم نے خریدا تھا، اس میں بیوی کا زیور جو اس وقت 175000 کا بیچا تھا، کوئی بات طے نہ ہوئی تھی، بعد میں کبھی ہم کہتے تھے کہ مکان جب بکے گا تو جو پرسنٹ بنے گا اس میں سے دے دوں گا ،یہ سونا تھوڑا تھوڑا بنا دوں گا وقت کے حساب سے، اب اس کا کیا حکم ہے؟
(4) اگر عورت طلاق کا مطالبہ کرے تو شوہر یہ شرط رکھ سکتا ہے کہ مکان کا جو حق ہے معاف کر دو، اس کا کیا حکم ہے؟
(5) کیا عورت اس صورت میں بچوں کا مطالبہ کر سکتی ہے؟ جبکہ تین بچے ہیں ایک 16 سال، 9 سال،6 سال كا۔
نوٹ: مزید تفصیل میری بیوی ایک مرتبہ گھر سے بغیر اجازت کے ایک ہفتے تک ایک لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی تھی، پھر ہم لے کر آئے اور چار مہینے گھر میں رہی، اس کے بعد پھر چلی گئی، اور پھر ایک مہینے کے بعد مجھے میسج کیا کہ مجھے بچوں سے ملنا ہے، میں نے ملنے سے منع کیا، تو اس نے کہا کہ میں نے خلع لے لی ہے، اور اس لڑكے کے ساتھ نکاح کر لیا، جبکہ کورٹ وغیرہ کے ذریعے مجھے کوئی نوٹس سمن ملا ہى نہیں ، تو ایسے خلع کا کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شادی شدہ عورت کا کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ جانا اور ناجائز مراسم قائم کرنا شرعاً گناہ کبیرہ اور بدکاری کے زمرے میں آتا ہے، جس کی وجہ سے سائل کی بیوی پر اپنے مذکور فعل پر ندامت کے ساتھ بصدق دل توبہ واستغفاراور شوہر سے معافی مانگنا لازم ہے، اسی طرح سائل کی بیوی کا یکطرفہ طور پر خلع کی ڈگری حاصل کر کے دوسرے نکاح کا دعوی بھی شرعاً قابل قبول نہيں،وه بدستور سائل کے عقد نکاح میں ہے، اور اس شخص کے ساتھ اس کے تعلقات ناجائز اور حرام ہيں، جن سے احتراز لازم ہے، بصورت دیگر سائل اس کے خلاف قانونی کاروائی کا بھی مجاز ہے، جبکہ شادی کے موقع پر لڑکی کو والدین کی طرف سے جو کچھ زیورات وغیرہ اور جہیز کا دیگر سامان نيز جو كچھ شوہر یا سسرال وغیرہ کی طرف سے اسے بطور ہبہ (تحفہ) دیا گيا ہے وہ سب کچھ اس کی ملكيت شمار ہو گا، چنانچہ میاں بیوی میں علیحدگی کی صورت میں شوہر وہ زیورات اور دیگر سا زو سامان اپنے پاس روکے رکھنے کا اختیار نہیں رکھتا،بلکہ وہ بیوی کے حوالے کرنا لازم اور ضروری ہے ، البتہ اگر شوہر و سسرال کی جانب سے تحائف بطور ملکیت نہ دیئے گئے ہوں ،جیسا کہ بعض علاقوں میں زیورات بطور مستعار دئیے جاتے ہیں تو اس صورت میں بوقتِ علیحدگی ان سامان کا واپس لینا جائز اور درست ہوگا۔
صورت مسئولہ میں مکان کی خریداری میں بیوی کی جانب سے شوہر کو دیا جانے والا زیور اگر بطور قرض دیا ہو یا شوہر سے واپس لینے کی صراحت کے ساتھ دیا ہو،تو خاوند پر زیور کی مذکور مقدار یا آج کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے اس کی رقم دینا شرعاً لازم ہے ، تاہم عورت کے مطالبہ طلاق کی صورت میں شوہر کی جانب سے بیوی سے سابقہ قرض کی معافی كا مطالبہ رکھنے کی گنجائش ہے، اور میاں بیوی کے درميان علیحدگی کی صورت میں بچوں کی کفالت کا حکم یہ ہے کہ لڑکے کی عمر سات (7) سال اور لڑکی کی عمر نو (9) سال ہونے تک اس کی پرورش کا حق اس کی والدہ كو ہے ،بشرطیکہ والدہ اس دوران بچہ کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرلے ،ورنہ ماں کا حقِ پرورش ختم ہوجاتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في مصنف عبد الرزاق: عن أبي الزبير: أن ثابت بن قيس بن شماس كانت عنده ابنة عبد الله بن سلول، وكان أصدقها حديقة فكرهته، فقال النبي ﷺ: «‌تردين ‌عليه ‌حديقته التي أعطاك؟» قالت: نعم، فأخذها، وخلى سبيلها، فلما بلغ ذلك ثابت بن قيس قال: قد قبلت قضاء رسول الله ﷺ". [(6/ 502 ت الأعظمي)]
وفي أحكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع الى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها الخ (153/3).
وفی الشامیۃ: تحت قوله: (لأن الظاهر يكذبه) قال فی الفتح: والذی يجب اعتباره فی ديارنا أن جميع ما ذكر من الحنطة واللوز والدقيق والسكر والشاة الحية وباقيها يكون القول فيها قول المرأة لأن المتعارف فی ذلك كله أن يرسله هدية والظاهر معها لا معه، ولا يكون القول إلا فی نحو الثياب والجارية اھ (إلی قولہ) قال فی النهر: وأقول وينبغی أن لا يقبل قوله أيضا فی الثياب المحمولة مع السكر ونحوه للعرف، اھ قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف فی الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلی، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى فی العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف فی زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا، الخ (کتاب النکاح، باب المھر، مطلب فيما يرسله إلى الزوجة، ج 3، ص 153، ط: ایچ ایم سعید)-
وفيه أيضا: كل أحد يعلم أن الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها. [(3/ 158)]
وفي الدر المختار: "‌الخلع ‌إزالة ‌ملك ‌النكاح المتوفقة على قبول الزوجة بلفظ الخلع أو ما في معناه. (جـ 3 ص 439)
‌وفي الفتاوى الهندية: أحق ‌الناس ‌بحضانة ‌الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم … وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم الخ. [(1/ 541)]
وفيه أيضا: والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين. [(1/ 542)]

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92488کی تصدیق کریں
1     107
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • خلع لینے کا شرعی طریقہ کار

    یونیکوڈ   اسکین   خلع 3
  • خلع کے بدلے پوراحق مہرمعاف ہوگا یا آدھا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   خلع 2
  • کورٹ کی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعد میاں بیوی کا ساتھ رہنے کے لئے رجوع کرنا

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی بنیاد پر عدت میں بیٹھنا

    یونیکوڈ   خلع 1
  • کورٹ سے تنسیخ نکاح کی ڈگری لینے کے بعد دوبارہ نکاح کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 1
  • کیا شوہر کے مارپیٹ کی وجہ سے بیوی خلع لے سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   خلع 0
  • مروجہ یکطرفہ عدالتی خلع کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • کیا خلع کے بعد عورت اپنے زیور اور حق مہر کا مطالبہ کرسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • خلع کی صورت میں بیوی سے حق مہر اور دیگر گفٹ کردہ اشیاء واپس لینے کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 1
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعد رجوع کا حکم

    یونیکوڈ   انگلش   خلع 0
  • باہمی رضامندی سے ہونے والے" خلع"کی حیثیت

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعد دوبارہ شوہر کے پاس جانا

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • بیوی کا غلط الزامات لگا کر کورٹ سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   خلع 1
  • اگر شوہر نہ طلاق دے اور نہ گھر بسائے تو یکطرفہ خلع سے نکاح ختم ہوجائے گا ؟

    یونیکوڈ   خلع 0
  • یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کے بعدکیے گئے نکاح کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • حقوق ادا نہ کرنے والے شوہر سے چھٹکارے کا طریقہ

    یونیکوڈ   خلع 0
  • عدالتی خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 1
  • خلع کے متعلق حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
  • شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالتی خلع حاصل کرنا

    یونیکوڈ   خلع 1
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   خلع 0
Related Topics متعلقه موضوعات