السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میری شادی کو تقریباً 20 سال ہو چکے ہیں، اور کم عمری میں شادی ہوئی تھی۔ پچھلے تقریباً 7 سال سے میرے اور میرے شوہر کے درمیان کوئی ازدواجی تعلق قائم نہیں ہوا۔ میں نے اس مسئلے پر بارہا بات کی، ناراضگی اور احتجاج بھی کیا، اور مختلف ڈاکٹروں سے رجوع کرنے کا مشورہ بھی دیا، لیکن وہ نہ تو باقاعدہ علاج کو ترجیح دیتے ہیں اور نہ ہی مستقل مزاجی سے علاج کرواتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی رائے کے باوجود وہ سنجیدگی سے مسئلے کا حل تلاش نہیں کر رہے۔ اس مسلسل ذہنی دباؤ کی وجہ سے میری صحت بھی متاثر ہوئی ہے اور مجھے رحم میں فائبرائیڈز بھی ہو چکے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں شریعت کی رو سے میرے کیا حقوق ہیں؟ اگر شوہر ازدواجی حقوق ادا نہ کرے اور علاج کروانے میں بھی سنجیدہ نہ ہو تو کیا عورت خلع لینے کی حق دار ہوتی ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً
واضح ہوکہ نکاح کے بعد شوہر پر لازم ہےکہ بیوی کےتمام حقوق (نان، نفقہ،رہائش اورحق زوجیت)ادا کرے،اس میں کمی کوتاہی سے کام لیناشرعاً جائز نہیں ۔ لہٰذا صورت مسئولہ میں اگرسائلہ کا شوہر کئی سال سے ازدواجی تعلق قائم نہیں کر رہا اور علاج معالجہ میں بھی سنجیدگی اختیار نہ کرتاہو، جس کے نتیجے میں سائلہ کو جسمانی و ذہنی ضرر لاحق ہورہا ہو، تو ایسی صورت میں پہلے باہمی افہام و تفہیم اور اصلاح کی کوشش کی جائے، اگر اس کے باوجود شوہر اپنے رویہ پر قائم رہےتو سائلہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ باہمی رضامندی سےطلاق بالمال یاخلع کے ذریعے اس سے علیحدگی اختیارکرنے کی کوشش کرےاور اس صورت میں وہ گناہ گاربھی نہ ہوگی۔
كما فی القرآن المجید : "وَإِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَٱبۡعَثُواْ حَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهِۦ وَحَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصۡلَٰحٗا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيۡنَهُمَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيراً" (سورۃالنساء، آیت : ۳۵)
وفی الفتاویٰ الھندیة: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية. إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع.(الباب الثامن في الخلع وما في حكمه وفيه ثلاثة فصول، ج:1، ص: 488، مط: ماجدیة ؔ)۔
وفی بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع: واما رکنہ فھو الایجاب والقبول؛ لانہ عقد علی الطلاق بعوض، فلاتقع الفرقۃ ولایستحق العوض بدون القبول۔الخ (فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة، ج: 3، ص: 145، مط: ایچ ایم سعید کراچی)
وفیہ ایضاً: وللزوجة أن تطالب زوجها بالوطء؛ لأن حله لها حقها كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب على الزوج، ويجبر عليه في الحكم مرة واحدة والزيادة على ذلك تجب فيما بينه، وبين الله تعالى من باب حسن المعاشرة واستدامة النكاح، فلا يجب عليه في الحكم عند بعض أصحابنا، وعند بعضهم يجب عليه في الحكم. (فصل بيان حكم النكاح، ج: 2، ص: 331، مط: ایچ ایم سعید کراچی)