کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں ، ہم دوست سعودی عرب کے شہر الباحہ میں ہوتے ہیں، افطار کےٹائم ہم آذان سن کر روزہ افطار کرتے ہیں، لیکن کچھ دوست بول رہے کہ آذان تو نماز کے لیے ہوتی ہے، اور آذان کبھی 2منٹ پہلے ہو جاتی ہے کبھی 3منٹ ہو جاتی ہے، کوئی بول رھا کہ آذان کے 2یا 3منٹ بعد افطاری کی جائے، کچھ دوست افطاری میں انتظا ر کو گناہ بول رہے ہیں، کیا ہمیں آذان پر روزہ افطار کرنا چاہیے؟ یا درست طریقہ کیا ہے ؟
واضح ہوکہ روزہ کے افطار کا تعلق شرعاً سورج کے غروب ہونے سے ہے نہ کہ آذان سے، چنانچہ جب سورج کے گروب کا وقت ہو جائے تو اگرچہ آذان نہ ہوئی ہو، تب بھی روزہ افطار کرنا درست ہوگا، اس لیے سائل کو چاہیے کہ مقامی طور پر اوقات نماز کا مستند نقشہ حاصل کركے اسی کے مطابق غروب کا وقت ہو جانے کے بعد افطار کا اہتمام کرے، جبکہ اذان عموما وقت داخل ہونے کے بعد ہی دی جاتی ہے، اس لیےجہاں وقت داخل ہونے کے بعد مغرب کی اذان دینے کا اہتمام کیا جاتا ہو ،تو اس اذان کے ساتھ افطاری کرنے میں شرعاً كوئى مضائقہ نہیں۔
كما في القرآن الكريم: ﴿وَكُلُواْ وَٱشۡرَبُواْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ ٱلۡخَيۡطُ ٱلۡأَبۡيَضُ مِنَ ٱلۡخَيۡطِ ٱلۡأَسۡوَدِ مِنَ ٱلۡفَجۡرِۖ ثُمَّ أَتِمُّواْ ٱلصِّيَامَ إِلَى ٱلَّيۡلِۚ﴾ [البقرة: 187]
وفي صحيح البخاري: عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: «إذا أقبل الليل من ها هنا، وأدبر النهار من ها هنا، وغربت الشمس، فقد أفطر الصائم.». [كتاب الصوم، باب: متى يحل فطر الصائم، رقم الحديث (1954) ج: 3 ص:36 ط: المطبعة الكبرى الأميرية]
وفي الدر المختار: (هو) لغة (إمساك عن المفطرات) الآتية (حقيقة أو حكما) كمن أكل ناسيا فإنه ممسك حكما (في وقت مخصوص) وهو اليوم (من شخص مخصوص) اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (وهو اليوم) أي اليوم الشرعي من طلوع الفجر إلى الغروب، (إلى قوله) والمراد بالغروب زمان غيبوبة جرم الشمس بحيث تظهر الظلمة في جهة الشرق قال ﷺ «إذا أقبل الليل من هنا فقد أفطر الصائم» أي إذا وجدت الظلمة حسا في جهة المشرق فقد ظهر وقت الفطر أو صار مفطرا في الحكم؛ لأن الليل ظرفا للصوم وإنما أدى بصورة الخبر ترغيبا في تعجيل الإفطار كما في فتح الباري قهستاني اهـ [كتاب الصوم، ج:2 ص:371 ط: سعيد)]