شوہر کے ظلم، جبری غیر فطری تعلق اور بدکرداری کی صورت میں خلع اور علیحدگی کے بارے میں شرعی رہنمائی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں ایک خاتون ہوں اور اپنے نکاح کے معاملے میں شرعی رہنمائی کی درخواست کر رہی ہوں۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔
میری شادی کو چند سال ہو چکے ہیں اور میرے دو بچے ہیں (عمر تقریباً 6 سال اور 2 سال)۔ میں گزشتہ تقریباً دو سال سے اپنے والدین کے گھر رہ رہی ہوں اور اپنے بچوں کی کفالت خود کر رہی ہوں۔ اس دوران میں نے متعدد مرتبہ اپنے شوہر کے ساتھ دوبارہ نہ رہنے کا فیصلہ ظاہر کیا ہے اور طلاق یا خلع کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
میرے شوہر کے ساتھ رہائش کے دوران درج ذیل سنگین مسائل پیش آئے:
جسمانی اور ذہنی تشدد
1)مار پیٹ، گالم گلوچ، ذلت آمیز اور توہین آمیز رویہ۔
جبری ازدواجی تعلق اور غیر فطری عمل
2)میری رضامندی کے بغیر زبردستی تعلق قائم کرنا، بیماری، کمزوری یا ایام کے دوران بھی مجبور کرنا، اور بار بار پچھلے راستے سے تعلق قائم کرنے پر مجبور کرنا حالانکہ میں واضح انکار کرتی رہی۔
3)اخلاقی بدکرداری اور ناجائز تعلقات
شراب نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال۔
4)دوسری عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلقات کے شواہد۔
خاص طور پر اپنے بھائی کی بیوی کے ساتھ نامناسب اور ناجائز تعلقات۔
4)دھمکیاں اور بلیک میلنگ
بدنام کرنے اور نجی زندگی کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں۔
5)مالی ذمہ داری سے غفلت
میرے اور بچوں کے اخراجات ادا نہ کرنا، بلکہ میری ذاتی اشیاء اور زیورات بھی اپنے استعمال میں لے لینا۔
گھر والوں کی طرف سے مجھ پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ میں صبر کر کے دوبارہ ان کے ساتھ رہوں، حالانکہ ماضی میں واپس جانے کے باوجود ان کا رویہ تبدیل نہیں ہوا۔
براہِ کرم درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں:
کیا ایسی صورتِ حال میں شوہر کے ساتھ رہنا شرعاً لازم ہے؟
کیا مجھے خلع یا علیحدگی کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے؟
کیا ظلم، بدسلوکی، نشہ، بدکرداری اور جبری غیر فطری تعلق کی صورت میں عورت کا علیحدگی اختیار کرنا شرعاً جائز ہے؟
کیا والدین یا خاندان کی طرف سے زبردستی شوہر کے پاس بھیجنا شرعاً درست ہے؟
ایسی حالت میں میرے لیے شرعی طور پر درست راستہ کیا ہے؟
جزاکم اللہ خیراً
والسلام
(نام مخفی رکھا جا ئے )
واضح ہوکہ میاں بیوی کے رشتے کو اللہ رب العزت نے ایک دوسرے کے لئے راحت اور سکون کا ذریعہ قرار دیا ہے اور جب تک اس مقصد کی تکمیل ممکن ہو تو میاں بیوی دونوں کے لئے اس رشتے کو برقرار رکھنا اور اچھے طریقے سے نبھانے کا حکم ہے اور یہ افضل ہے، تاہم جہاں حدود اللہ کی پاسداری کرتے ہوئے اس رشتے کونبھانا اور برقرار رکھنا ممکن نہ رہے تو ایسی صورت میں شریعت نے ایک دوسرے سے آزادی لینے کی بھی گنجائش دی ہے۔ لہذا سائلہ کا سوال میں ذکر کردہ امور اگر واقعۃ درست اور حقیقت پر مبنی ہو اور اس میں غلط بیانی یا مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا گیا ہو تو اس کے شوہر کا سوال میں ذکر کردہ رویہ رکھنا اور یہ طرز عمل اختیار کرنا شرعاً واخلاقاً ہر اعتبار سے غلط اور واجب الترک ہے، اس لئے اگر موقعہ دینےا ور سمجھانے کے باوجود وہ اپنے اس غیر شرعی طرز عمل سے باز نہیں آتا تو سائلہ کے لئے اس سے خلع یا طلاق کے ذریعہ آزادی حاصل کرنے کی اجازت ہے،اور ایسی صورت میں سائلہ کے والدین کا اسے خامخواہ اس رشتہ میں بندھے رہنے پر مجبور کرنا جائز نہ ہوگا بلکہ انہیں اس اذیت اور تکلیف دہ زندگی سے آزادی میں اس کا تعاون کرنا چاہئے، لیکن شوہر سے خلع لیتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہوگا کہ وہ خود یا اس کا وکیل اس خلع کے فیصلہ پر آمادگی ظاہر کرلے، ورنہ یکطرفہ خلع کی ڈگری لینے سے ان دونوں کا نکاح ختم نہ ہوگا۔
كما في احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يمكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والأخروكيل الزوج في الخلع (الى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخر جا المال من ملكها اھ ( باب الحکمین کیف یعملان، ج :2، ص:191،مط:سھیل اکیڈمی لاھور)
وفي المبسوط لشمس الدين السرخسي : (قال) والخلع جائز عند السلطان وغيره لانه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود وهو منزلة الطلاق الخ ( باب الخلع ،ج: 6ص:173،مط:دار الفکر)
وفی التاتار خانیۃ:الخلع عقد یفتقر الی الایجاب والقبول یثبت الفرقۃ و یستحق علیھا العوض الخ(الفصل السادس العشر فی الخلع،ج:5،ص:5،مط:مکتبہ رشیدیہ)