باپ اور بیٹی نے احرام باندھ لیا باپ نے عمرہ کر کے اپنے بیٹی سے سر منڈوایا حلق کروایا اور بیٹی نے ابھی تک عمرہ ادا نہیں کیا تھا اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ ایک محرم اگر دوسرے کا حلق کر دے جو احرام سے نکلنا چاہتا ہے تو حلق کرنے والے پر کوئی دم واجب نہیں ہوتا، لہذا صورت مسئولہ میں بیٹی نے اگر باپ کا حلق کر دیا تو اس سے بیٹی پر کوئی دم واجب نہیں ہوا، اس لیے بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
كما في المبسوط: وإذا حلق المحرم رأس محرم آخر فإن فعله بأمره فعلى المحلوق دم؛ لأن فعل الغير بأمره كفعله بنفسه، ومعنى الراحة والزينة له متحقق فيلزمه دم، وعلى الحالق رأسه صدقة لما بينا أنه جان في أصل فعله، وإن حلق بغير أمره بأن كان المحرم نائما فجاء، وحلق رأسه أو أكرهه على ذلك فعلى المحلوق رأسه دم عندنا اهـ (كتاب المناسك، باب الحلق، ج:4 ص:73 ط: دار المعرفة بيروت)
وفي مناسك الملا علي القاري: (وإذا حلق) ای المحرم (رأسه) ای رأس نفسه (أو رأس غیرہ) ای ولو کان محرما (عند جواز التحلل) ای الخروج من الاحرام بأداء أفعال النسک (لم یلزمه شيئ) الاولی لم یلزمھما شیٔ وھذا حکم یعم کل محرم فی کل وقت اهـ (باب مناسك المني، فصل في الحلق والتقصير، ص:324، ط: المكتبة الإمدادية)
وفي فتح باب العناية: وإذا حلق محرم رأس محرم عند جواز التحلل يوم النحر لم يكن عليهما شيء، كذا في «السراج»، والظاهر أنه كذلك عند جواز التحلل في العمرة اهـ (كتاب الحج، فصل في الجنايات، ج:1 ص:693 ط: دار الأرقم ابن أبي الأرقم)