جب کوئی شخص کسی محفل میں بیٹھا ہوا ہو اور اس کے منہ میں بار بار کھارا پانی آتا ہو تو اس سے روزہ ٹوٹتا ہے کہ نہیں؟
اگر روزے کی حالت میں منہ میں کھارا پانی خود بخود آجائے اور بلا اختیار اندر چلا جائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا ،البتہ کھاراپانی منہ میں آنے کے بعد اگر روزے دار نے جان بوجھ کر روزہ یاد ہونے کے باوجود حلق سے نیچے اتار دیا ہو اور پانی بھی منہ بھر کر ہو تو ایسی صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا، اس روزہ کی صرف قضا لازم آئے گی، کفارہ لازم نہ ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (وإن ذرعه القيء وخرج) ولم يعد (لايفطر مطلقًا) ملأ أو لا (فإن عاد) بلا صنعه (و) لو (هو ملء الفم مع تذكره للصوم لايفسد) خلافًا للثاني (وإن أعاده) أو قدر حمصة منه فأكثر حدادي (أفطر إجماعًا) ولا كفارة (إن ملأ الفم وإلا لا) هو المختار. (باب مایفسد الصوم ومالا یفسد،ج:2،ص:414،ط:سعید)