1۔ کیا ماہواری (حیض) یا نفاس سے فراغت کے بعد، بغیر غسل کیے، بیوی اپنے شوہر سے ہمبستری کر سکتی ہے؟
2۔ اگر دخول کے بغیر شوہر اپنی بیوی کے قریب رہتے ہوئے (مثلاً فرج کے پاس) اپنی حاجت پوری کر لے اور فارغ ہو جائے، تو کیا اس صورت میں عورت پر غسل فرض ہو جاتا ہے یا نہیں؟
(1)اگر حیض ونفاس کاخون زیادہ سے زیادہ مدت(حیض دس دن ،نفاس چالس دن) پر بند ہو، تو خون بند ہوتے ہی بغیرغسل شوہر کے لیے بیوی سے ہمبستری کرنا شرعاً جائز ہوجاتاہے، تاہم بہتر اور مستحب یہی ہے کہ غسل کے بعد ہمبستری کی جائے۔
البتہ اگرحیض ونفاس کاخون اکثر مدت سے قبل عورت کی سابقہ عادت کے مطابق بندہو، تو صرف خون بند ہوجانے سے ہمبستری جائز نہیں ہوگی، بلکہ ایسی صورت میں عورت کے غسل کرلینے، یا ایک فرض نماز ذمہ پر لازم ہوجانے کے بعد ہمبستری جائز ہوگی۔ نیز اگر حیض عورت کی عادت کے ایام سے پہلے ہی بند ہوجائے، تو عادت کے دن مکمل ہونے سے پہلے ہمبستری درست نہیں، اگرچہ عورت غسل کر چکی ہو، کیونکہ ممکن ہے خون دوبارہ آجائے۔
(2) اگر شوہر نے دخول (حشفہ کا فرج میں داخل ہونا) کیے بغیر صرف بیوی کے قریب رہتے ہوئے فرج (عورت کی شرمگاہ)سےباہر اپنی شہوت پوری کرلی اور انزال ہوگیا، تو محض اس وجہ سے عورت پر غسل فرض نہیں ہوگا۔ البتہ اگر عورت کو بھی شہوت کے ساتھ انزال ہوگیا ہو، تو اس پر غسل فرض ہوجائے گا، اور اگر انزال نہیں ہوا تو اس پر غسل واجب نہیں ہوگا۔
کمافی الھندیہ: (ومنها) حرمة الجماع. هكذا في النهاية والكفاية وله أن يقبلها ويضاجعها ويستمتع بجميع بدنها ما خلا ما بين السرة والركبة عند أبي حنيفة وأبي يوسف. هكذا في السراج الوهاج.فإن جامعها وهو عالم بالتحريم فليس عليه إلا التوبة والاستغفار ويستحب أن يتصدق بدينار أو نصف دينار. كذا في محيط السرخسي. (ومنها) وجوب الاغتسال عند الانقطاع. هكذا في الكفاية.إذا مضى أكثر مدة الحيض وهو العشرة يحل وطؤها قبل الغسل مبتدأة كانت أو معتادة ويستحب له أن لا يطأها حتى تغتسل. هكذا في المحيط.وإذا انقطع دم الحيض لأقل من عشرة أيام لم يجز وطؤها حتى تغتسل أو يمضي عليها آخر وقت الصلاة الذي يسع الاغتسال والتحريمة؛ لأن الصلاة إنما تجب عليها إذا وجدت من آخر الوقت هذا القدر. هكذا في الزاهدي.(الیٰ قولہ) لو انقطع دمها دون عادتها يكره قربانها وإن اغتسلت حتى تمضي عادتها وعليها أن تصلي وتصوم للاحتياط. هكذا في التبيين اھ (کتاب الطھارۃ، الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة، ج:1، ص: 39، ناشر: بیروت)
وفی فتح القدیر: ولو جومعت فيما دون الفرج فسبق الماء إلى فرجها أو جومعت البكر لا غسل عليها إلا إذا ظهر الحبل اھ (موجبات الغسل، ج: 1، ص: 60، ناشر: دار الکتاب الاسلامی)
وفی الھندیۃ: إذا جومعت المرأة فيما دون الفرج ووصل المني إلى رحمها وهي بكر أو ثيب لا غسل عليها لفقد السبب وهو الإنزال أو مواراة الحشفة حتى لو حبلت كان عليها الغسل لوجود الإنزال الخ (الفصل الثالث فی المعانی الموجبۃ للغسل، ج: 1، ص: 15، ناشر: بیروت)