میری بیوی نے مجھ سے خلع لی تھی، میں نشہ میں لگ گیا تھا، اب میری بیوی واپس آنا چاہتی ہے، اور میں نے مکمل علاج کرلیا ہے، اور وہ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے، میں نے کوئی طلاق نہیں دی تھی، نہ کوئی طلاق کا پرچہ بنوایہ تھا، صرف خلع کے پرچے پر دستخط کیا تھا، اب آپ مجھے بتادے کے ہم واپس مل سکتے ہیں۔
نوٹ: خلع ہم دونوں میاں بیوی کی رضامندی سے ہوا تھا، بیوی نے کسی سے خلع کا سٹامپ پیپر بنواکر مجھے دیا ، میں نے بھی اس پر دستخط کرلیا، جبکہ ہمارے درمیان کوئی طلاق وغیرہ نہیں ہوئی، اب معلوم کرنا ہے کہ ہم دوبارہ اپنا گھر آباد کرسکتے ہیں کہ نہیں، اور اس کے لیئے کیا طریقہ کار ہوگا، تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں اگر خلع میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے ہوا ہو، (جیساکے سوال میں مذکور ہے) تو اس سے بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر دونوں میاں بیوی کا نکاح ختم ہو چکا ہے، تاہم اب اگرمیاں بیوی دوبارہ ازدواجی حیثیت سے رہنے کے خواہشمند ہوں، تو اس کے لیے نئے حقِ مہر کے تقرّر کے ساتھ باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں باضابطہ ایجاب و قبول کےساتھ دوبارہ نکاح کرنا لازم ہوگا، تاہم اس نکاح کے بعد شوہر کے پاس آئندہ کیلئے فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، لہذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔
كما في احكام القران للجصاص: لا يجوز ايقاع الطلاق من جهتهما من غير رضى الزوج وتوكيله ولا اخراج المهر عن ملكها من غير رضاها فلذلك قال اصحابنا انهما لا يجوز خلعهما الا برضى الزوجين فقال اصحابنا ليس للحكمين ان يفرقا الا برضى الزوجين لان الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وانما الحكمان وكيلان لهما احدهما وكيل المرأة والاخر وكيل الزوج في الخلع او في التفريق الخ (سورة النساء باب الحكمين كيف يعملان ج 2 ص 239 ط دار الكتب العلمية بيروت)
وفي البحر: قوله الواقع به وبالطلاق على مال طلاق بائن اي بالخلع الشرعي اما الخلع فقوله عليه الصلاة والسلام الخلع تطليقة بائنة ولانه يحتمل الطلاق حتى صار من الكنايات والواقع بالكناية بائن الخ (كتاب الطلاق باب الخلع ج 4 ص 71 ط مكتبة ماجدية)
وفي الهداية: وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال لقوله عليه الصلاة والسلام الخلع تطليقة بائنة الخ (كتاب الطلاق باب الخلع ج 2 ص 261 ط دار احياء التراث العربي)
وفي الهداية: واذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله ان يتزوجها في العدة وبعد انقضائها الخ (كتاب الطلاق باب الرجعة فصل فيما تحل به المطلقة ج 2 ص 92 ط مكتبة انعامية)