میں نے خلع لیا ہے۔ تین مہینے شوہر کے ساتھ رہتے ہوئے ازدواجی تعلق، بات چیت نہیں تھی اس کے بعد میں اپنے میکے میں آگئی 5 مہینے سے یہی ہوں 8 اپریل کو میں نے خلع لیا ہے اور شوہر تینوں بار کورٹ میں پیش ہوا ہے۔ تو کیا مجھ پر عدت لازمی ہے اور اگر ہے تو کتنے منتھ (مہینے) کی؟ ایک حیض یا تین اس کے کتنے ٹائم (وقت) کے بعد دوسرا نکاح کرسکتی ہوں؟ میں نے کافی جگہ معلوم کیا لیکن کسی نے کہا عدت بنتی نہیں کسی نے کہا ایک حیض کسی نے کہا تین حیض آپ مجھے بتادیں پلیز۔
سائلہ نے سوال میں یہ وضاحت نہیں کی کہ اس نے اپنے شوہر یا اس کے مقرر کردہ وکیل کی اجازت و رضامندی سے خلع لیا ہے یا شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر خلع حاصل کیا ہے، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا۔ تاہم، اگر سائلہ نے شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر بذریعہ عدالت یکطرفہ طور پر خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو چونکہ خلع کے لیے بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، اس لیے یکطرفہ عدالتی خلع کے ذریعے شرعاً سائلہ کا نکاح ختم نہیں ہوا بلکہ وہ بدستور برقرار ہے۔ البتہ اگر سائلہ نے شوہر یا اس کے مقرر کردہ مکمل با اختیار وکیل کی اجازت و رضامندی سے عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو وہ شرعاً معتبر ہوگی جس سے سائلہ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگی،اور اس کے بعد سائلہ کے ذمے تین ماہواریوں سے پاک ہونے کے عرصے تک عدت گزارنا لازم ہوگا۔
کما فی شرح مختصر الطحاوي للجصاص :[ليس للحكمين في الشقاق التفريق إلا بالتفويض] قال: (وليس للحكمين في الشقاق أن يفرقا إلا أن يجعل ذلك إليهما الزوجان) قال أحمد: وروي عن علي رضي الله عنه مثل ذلك.اھ( باب مسألة الخلع، ج : ۴،ص: 456-ط : دار البشائر الإسلامية)
و فی فتح القدير للكمال بن الهمام : ولو ادعى النشوز وادعت هي ظلمه وتقصيره في حقها يفعل الحاكم ما يتفقان عليه من الجمع والتفريق، وليس لهما أن يجمعا ولا أن يفرقا بغير أمرهما ۔اھ( باب الخلع،ج :۴ ، ص : ۲۴۴ ، ط : دار الفكر)
و فی المبسوط للسرخسي : و الخلع جائز عند السلطان و غيره ؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، و هو بمنزلة الطلاق بعوض۔(باب الخلع،ج؛6 ص: 173 ، ط؛ دار المعرفة)
و في موسوعة الفقه على المذاهب الأربعة: اتفق فقهاء المسلمين على أن الزوجين إذا وصلا إلى حالة من الشقاق و السباب و النفور و اشتد الخلاف بينهما و أشكل أمرهما و خيف من تعديهما إلى ما حرم الله أنه يبعث حكمان حكم من أهله و حكم من أهلها إن و جدا، فينظران بينهما و يفعلان ما يريان المصلحة فيه لهما من جميع أو تفريق لقوله تعالى: ﴿و إن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله و حكما من أهلها إن يريدا إصلاحا يوفق الله بينهما) [النساء: (٣٥).اھ(باب التحكيم عند الشقاق بين الزوجين، ج: ۱۶، ص: ۴۳۶، ط: دار التقوى).
و فی البنایة:وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث، فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها؛ لأن حل المحلية باق؛ لأن زواله متعلق بالطلقة الثالثة، فينعدم قبلها، ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب ولا اشتباه في إطلاقه.وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها، ثم يطلقها، أو يموت عنها.اھ(فصل فيما تحل به المطلقة،ج:5،ص:474،ط:دار الکتب العلمیۃ)