عرضِ خدمت یہ ہے کہ میری بھانجی عمر 16 سال کا نکاح ایک لڑکے سے ہوا تھا، بتاریخ 29 اکتوبر 2011 میں، مگر رخصتی نہیں ہوئی تھی، نکاح کے بعد کچھ اوقات ایسے ہوئے کہ رخصتی ممکن نہ رہی، لڑکا نکاح کے بعد ملک سے چلاگیا، ہم نے علیحدگی کی بے شمار کوششیں کیں مگر ناکام رہے، ایک ہی راستہ تھا کہ عدالت سے رجوع کیا جائے، ہم نے عدالت سے رجوع کیا تو وہاں بھی لڑکا حاضر نہ ہوا تو عدالت نے لڑکی کو خلع کی ڈگری جاری کر دی، 22 مارچ 2017 کو خلع کی ڈگری جاری ہوئی، آج 7 سال ہو چکے ہیں، ہر جانب خاموشی تھی، رب نے بڑا کرم کیا کہ ایک گھر سے لڑکی کا رشتہ مانگا گیا ہے جس کے لیے تمام خاندان کے لوگ اپنے رب کے شکر گزار ہیں کہ اس نے (ربِ کائنات نے) خوشیوں کی بارش کر دی، مگر ہمیں پتا چلا کہ خلع طلاق نہیں ہوتی، ٹھیک ہے، مگر اب مسئلہ لڑکی کی بندھی امید کا ہے کہ 15 سالوں سے وہ شخص ملک میں نہیں ہے، اس سے کیسے رابطہ کیا جائے، آپ سے استدعا ہے دین میں آسانیاں ہیں آپ غور کریں کہ ایک شخص 14 سال سے روپوش ہے۔
تنقیح:سوال میں مذکور شخص کے روپوش ہونے کا ذکر ہے، لیکن ساتھ یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اس دوران بچی کی علیحدگی کی کوشش بھی کی گئی، جس میں کامیابی نہیں ہوئی، نیز وہ عدالت میں حاضر بھی نہیں ہوا، تو کیا لڑکے کے ساتھ اس کے اہلِ خانہ کا رابطہ ہے یا نہیں؟ اگر اس رابطے میں ہیں تو پھر روپوش ہونے کا کیا مطلب ہے؟ اگر کوشش کی جائے تو ان تک رسائی اور بات چیت ہے یا نہیں؟
جوابِ تنقیح: سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ مذکور لڑکے سے رابطہ ممکن ہے، اور اس کی رہائش فی الحال سعودی عرب میں ہے، لیکن اس کے ساتھ رابطہ نہیں ہے۔
واضح ہوکہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جو کہ عموماً یکطرفہ عدالتی خلع کی ڈگریوں میں مفقود ہوتا ہے، چنانچہ ایسی ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود شرعاً نکاح ختم نہیں ہوتا، بلکہ بد ستور برقرار رہتا ہے، لہذا سائل کی بھانجی كا عدالت مىں خلع کا دعوی دائر کرنے كے بعد اگر عدالت نے اس کے شوہر ىا اس كے وكىل کی اجازت و رضا مندی کے بغیر عورت کے حق میں یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کردی ہو ، اور اس خلع کے اجراء کے وقت فسخ نکاح کے اسباب میں سے کوئی سبب بھی موجود نہ ہو تو اس کی وجہ سے شرعاً میاں بیوی کا نکاح ختم نہ ہوگا ، بلکہ بد ستور برقرار رہے گا ،چنانچہ اس طرح کے خلع کی ڈگری کو بنیاد بنا کر عورت کسی دوسری جگہ نکاح بھی نہیں کر سکتی ، تاہم ہر ممکن کوشش کے باوجود لڑکا رخصتی پر راضی نہ ہو، اور گھر بسانے کو تیار نہ ہو، جبکہ لڑکی کے اہلِ خانہ کی جانب سے رخصتی میں کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو، تو انہیں چاہیے کہ وہ لڑکے سے کسی بھی واسطے سے طلاق یا خلع لے کر لڑکی کو اس کے عقد سے آزاد کر دے، لیکن اگر وہ ظالم نہ گھر بسا کر بیوی کا نان نفقہ اور دیگر حقوق ادا کرتا ہو اور نہ ہی طلاق دیتا ہو ، تو ایسی صوت میں اس کا شوہر حکماً متعنت شمار ہوگا، لہٰذا ایسی مجبوری میں مذکور عورت کو نان نفقہ نہ دینے اور حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کی بنیاد پر بذریعہ قضاءِ قاضی فسخ نکاح کا حق حاصل ہوگا۔
جس کا طریقہ یہ ہے کہ مذکور عورت اپنا مقدمہ مسلمان حاکم ( جج ) کے سامنے پیش کرے اور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو ، وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعوٰی صحیح ثابت ہوجائے تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنا گھر بسا کر بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو، ورنہ ہم تفریق کردیں گے، اس کے باوجود اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل کرنے کو تیار نہ ہو تو بغیر کسی انتظار و مہلت کے قاضی اس کا قائم مقام بن کر اس کی بیوی پر طلاق واقع کردے، چنانچہ ایسا کرنے سے اس عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی، اور عورت ایام عدت گزارے بغیر( اگر نکاح میاں بیوی کے درمیاں خلوت صحیحہ کا تحقق نہ ہوا ہو) دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
كمافي احكام القران للجصاص:فأخبر علي أن قول الحكمين إنما يكون برضا الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا أن يرضى الزوج وذلك لأنه لا خلاف أن الزوج لو أقر بالإساءة إليها لم يفرق بينهما ولم يجبره الحاكم على طلاقها قبل تحكيم الحكمين(الى قوله)فلذلك قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع أو في التفريق بغير جعل إن كان الزوج قد جعل إليه ذلك(باب الحكمين كيف يعملان،ج:٣،ص:١٥٢،مط:التراث)
وفی ردالمختار: (قوله: و شرطه كالطلاق) و هو أهلية الزوج و كون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك و أما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، و لا يستحق العوض بدون القبول(باب الخلع،ج:٣،ص؛٤٤١،مط:سعید)
و في بدائع الصنائع:وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول(فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة،ج:٣،ص:١٤٥،مط:سعيد)
وفي الهداية:(وتكون الفرقة تطليقة بائنة عند أبي حنيفة ومحمد)رحمهما الله لأن فعل القاضي انتسب إليه كما في العنين اھ(باب اللعان،ج:٢،ص:١٠٥٠،ط:البشرى)
وفی الحیلۃ الناجزۃ:والمتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ:ان منعھا نفقۃ الحال فلہا القیام فان لم یثبت عسرہ انفق او طلق و الا طلق علیہ، قال محشیہ : قولہ والا طلق علیہ ای طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم الی ان قال: وان تطوع بالنفقۃ قریب اواجنبی فقال ابن القاسم:لہا ان تفارق لان الفراق قد وجب لہا،وقال ابن عبدالرحمن:لا مقال لہا لان سبب الفراق ہو عدم النفقۃ قد انتہی وہو الذی تقضیہ المدونۃ کما قال ابن المناصب، انظر الحطاب،انتہی اھ(فصل فی حکم زوجۃ المتعنت،ص:١٥٠،ط:دار الاشاعت)