مورخہ 15 جولائی 2022 کو میرا نکاح بحق مہر 5 تولہ سونا ایک سو بیس گز گھر ،اور 10 ہزار روپےماہانہ کے عوض طے پایا تھا، جبکہ کچھ سال بعد رخصتی ہونا طے پایا تھا،وقت اس لئے طے نہیں ہوسکا تھا کہ میری والدہ پاکستان سے باہر ہیں ،
نکاح کے کچھ عرصے بعد میری اہلیہ اور میرے درمیان بعض معاملات پر اختلافات ہوئے جس کی وجوہات غلط فہمی پر مبنی تھیں ، یہ اختلافات بڑھتے گئے اور میری اہلیہ نے عدالت سے خلع کے لئے رجوع کیا، مجھے پہلا خط جو کہ کسی وکیل کی جانب سے تھا وہ 12 دسمبر 2025 کو میرے آفس میں ملا جس میں لگائے گئے الزمات بے بنیاد تھے ، میں نے اس خط کا جواب دیا لیکن مجھے عدالت کی طرف سے کسی بھی قسم کا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا، ابھی ایک روز قبل مجھے معلوم ہوا کہ عدالت نے یکطرفہ فیصلہ سناتے ہوئے میری اہلیہ کو خلع دے دی ہے، جبکہ میں نا تو عدالت میں کبھی پیش ہوا اور نا ہی میں نے کبھی بھی زبان سے اپنی اہلیہ کو طلاق دی اور نا ہی کبھی طلاق دینے کا سوچا میں اب بھی اپنی اہلیہ کو منانے اور سمجھانے کی کوشش کررہاہوں لیکن ان کے گھر والے بھی میرا ساتھ نہیں دے رہے،
مجھے آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ کیا عدالتی فیصلےبعد میری اہلیہ میرے نکاح میں ہیں یا نہیں؟ اور کیا عدالت کی طرف سے میری اجازت کے بغیر یکطرفہ دی جانے والی یہ خلع درست ہے یا نہیں ،
اس چار سال کے عرصے کے دوران میرے اور میری اہلیہ کے درمیان ازدواجی تعلق بھی قائم ہوچکاتھا
سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری اہلیہ کومختلف لوگ میرے بارے میں گمراہ کرتے رہے جو کہ سراسر غلط تھا میں نے اپنی اہلیہ کو سمجھانے کی متعدد بار کوشش کی لیکن وہ گمراہ کن افراد کی غلط باتوں میں آکر انتہائی غلط فیصلہ کربیٹھی ہے میں اب بھی اپنی اہلیہ کےساتھ ہی رہنا چاہتا ہوں۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کی صحت کے لئے شرعا ًمیاں بیوی کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب وقبول شرط ہے جوکہ عموما یکطرفہ عدالتی خلع میں مفقودہوتی ہے۔لہذا صورت مسئولہ میں سائل یا اس کی جانب سے مقررکردہ وکیل نے زبانی یا تحریری طور پر اس عدالتی فیصلہ پر رضامندی کا اظھار نہ کیا ہو جیسا کہ سوال میں مذکور ہے، تو ایسی صورت میں اس عدالتی یکطرفہ خلع کی بنیاد پر میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوا بلکہ بدستور برقرار ہے ،جبکہ اس فیصلہ کی بنیاد پر عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد نہ ہوگی، تاہم اگر بیوی کسی صورت سائل کے ساتھ گھر بسانے پر راضی نہ ہو ، اور ان دونوں کے درمیان نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ رہے ، تو سائل کو بھی چاہئے کہ بیوی کو اپنے نکاح کے بندھن میں رکھ کر خامخواہ اس رشتہ کو معلق رکھنے کے بجائے اس کے ساتھ عقد خلع کر کے اپنے عقد سے اسے جدا کردے تاکہ دونوں اپنئ آئندہ کے فیصلوں میں خود مختار ہوسکیں۔
كما في احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يمكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والأخروكيل الزوج في الخلع (الى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخر جا المال من ملكها اھ ( باب الحکمین کیف یعملان، ج :2، ص:191،مط:سھیل اکیڈمی لاھور)
وفي المبسوط لشمس الدين السرخسي : (قال) والخلع جائز عند السلطان وغيره لانه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود وهو منزلة الطلاق الخ ( باب الخلع ،ج: 6ص:173،مط:دار الفکر)
وفی التاتار خانیۃ:الخلع عقد یفتقر الی الایجاب والقبول یثبت الفرقۃ و یستحق علیھا العوض الخ(الفصل السادس العشر فی الخلع،ج:5،ص:5،مط:مکتبہ رشیدیہ)