میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ میرا شوہر بلال دوسری شادی کرنا چاہتا ہے۔ ہمارے دو بچے ہیں، اور ہماری شادی کو آٹھ سال ہو گئے ہیں۔ وہ ہمیشہ دوسری لڑکیوں سے دوستی رکھتا تھا، اب بات شادی تک پہنچ چکی ہے، اور میں یہ برداشت نہیں کر پا رہی ہوں۔ مجھے بہت تکلیف ہے۔
کیا میں ان سے خلع لے لوں یا پھر ان کو شادی کی اجازت دے دوں؟
واضح ہو کہ شریعت میں اگر کوئی شخص مالی استطاعت اور جسمانی قدرت کے ساتھ دونوں بیویوں کے حقوق، مثلاً نان و نفقہ، شب باشی وغیرہ، برابری کے ساتھ ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، تو شرعاً دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی اجازت ضروری نہیں، بلکہ پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر بھی دوسری شادی کرنا جائز ہے۔ تاہم بہتر یہ ہے کہ پہلی بیوی کو رضامند کرکےدوسری شادی کی جائے، تاکہ آئندہ کی زندگی میں سکون اور اطمینان حاصل ہو،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں، اگر سائلہ کا شوہر مذکورہ شرائط کے مطابق دونوں بیویوں کے حقوق ادا کرنے کی استظا عت رکھتا ہو ، تو اس کے لیے دوسری شادی کرنا شرعاً جائز ہے۔ اس بنا پر سائلہ کے لئےشوہر سے خلع کامطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ، اس لئے بلا وجہ شرعی طلاق یا علیحدگی کا مطالبہ کرنے سے احادیث مبا رکہ میں ممانعت آئی ہے، لہذا سائلہ کو چاہئے کہ اپنا گھر اور اولاد کی زندگی اور ان کے مستقبل کو خراب کرنے کے بجائے صبر سے کام لیتے ہوئے خانہ آباد ی کی فکر کرے ۔
قال اللہ تعالی: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا (سورۃ النساء ایۃ 3)۔
وكما في مشكاة المصابيح : وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا كانت عند الرجل امرأتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط» . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي اح (الفصل الثانی ج:2 ص: 965 ناشر ؛ المکتب الاسلامی )
وفي احکام القرآن للجصاص: وأما قوله تعالى: {مثنى وثلاث ورباع} فإنه إباحة للثنتين إن شاء وللثلاث إن شاء وللرباع إن شاء، على أنه مخير في أن يجمع في هذه الأعداد من شاء; قال: فإن خاف أن لا يعدل اقتصر من الأربع على الثلاث، فإن خاف أن لا يعدل اقتصر من الثلاث على الاثنتين، فإن خاف أن لا يعدل بينهما اقتصر على الواحدة.اھ (مدخل ج:2 ص: 69 ناشر :دار الکتب العلمیہ)
وفی حاشیۃ ابن العابدین: (قوله: فإن تيقنه) أي تيقن الجور حرم؛ لأن النكاح إنما شرع لمصلحة تحصين النفس، وتحصيل الثواب، وبالجور يأثم ويرتكب المحرمات فتنعدم المصالح لرجحان هذه المفاسد بحر وترك الشارح قسما سادسا ذكره في البحر عن المجتبى وهو الإباحة إن خاف العجز عن الإيفاء بموجبه. اهـ.(کتاب النکاح ج:3 ص؛ 7 ناشر :سعید)
وفی الہندیۃ : وإذا كانت له امرأة وأراد أن يتزوج عليها أخرى وخاف أن لا يعدل بينهما لا يسعه ذلك وإن كان لا يخاف وسعه ذلك والامتناع أولى ويؤجر بترك إدخال الغم عليها كذا في السراجية.اھ(مسائل في القسم بين الزوجات،ج:1 ص: 341 ناشر:ماجیدیہ)
وفي فقہ الاسلام وادلتہ: وأما المعاشرة قبل الزواج والذهاب معاً إلى الأماكن العامة وغيرها، فهو كله ممنوع شرعاً، بل إنه لا يحقق الغاية المرجوة، إذ كل منهما يظهر بغير حقيقته،اھ( تحریم الخلوۃبالمخطوبۃ ،ج:9 ص: 6508 ناشر: دار الفکر)