میں نے اپنے سابق شوہر سے خلع لیا ہے۔ اس نے کاغذات پر دستخط نہیں کیے، لیکن میں نے اسے اطلاع دے دی تھی کہ میں اس سے خلع لے رہی ہوں۔ اب میں کیا کروں؟ میں نکاح کرنا چاہتی ہوں۔
سائلہ نے سوال میں یہ وضاحت نہیں کی کہ سائلہ کے شوہر نے خلع پر آمادگی ظاہر کی تھی یا نہیں تاکہ اس کے متعلق کوئی حتمی جواب دیا جاتا،تاہم اگر سائلہ کے شوہر نے خلع پر آمادگی ظاہر کی ہو اور سائلہ نے شوہر کی رضامندی سے خلع لیا ہو،تو اگرچہ خلع نامہ پر شوہر کے دستخط موجود نہ ہوں تب بھی اس سے شرعا سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہوچکا ہے،جس کے بعد عدت مکمل کرکے سائلہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی،لیکن اگر سائلہ نے شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو چونکہ شرعا خلع کے درست ہونے کے لئے شوہر کی اجازت و رضامندی لازم ہے،اس لئے اس یکطرفہ خلع کی ڈگری سے شرعا سائلہ کا نکاح ختم نہ ہوگا،چنانچہ اس دوسری صورت میں سائلہ کے لئے اپنے شوہر سے باقاعدہ طور پر طلاق یا خلع لینے سے قبل کسی دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہ ہوگا۔
کما قال تعالی: ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُواْ مِمَّآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ شَيۡـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَاۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٢٢٩ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ٢٣٠﴾(سورۃ البقرۃ:ایۃ:229،230)۔
و في المبسوط: (قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد. [كتاب الطلاق، باب الخلع، ج:6 ص:173 ط: دار المعرفة بيروت)]
في أحكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع (الى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها اهـ [سورة النساء، باب الحكمين كيف يعملان، ج:3 ص:152، 153 ط: دار إحياء التراث العربي بيروت).
وفي الفتاوى التاتارخانية: الخلع عقد يفتقر إلى الايجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض الخ (الفصل السادس عشر في الخلع، ج 3، ص 453، إدارة القرأن)