کیا فرماتے ہیں حضرات علماءِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری شادی 2016 میں 5000 روپے مہر کے عوض ہوئی تھی، پھر شادی کے کچھ عرصہ بعد میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا، اور شوہر بیوی کو مار پیٹ بھی کرتا تھا، بالآخر عدالت میں حاضر ہو کر خلع کے لئے مقدمہ دائر کیاگیا ، اس سلسلے میں مقدمہ کے شروع سے آخر تک ہر بار شوہر اپنے وکیل کے ساتھ عدالت میں حاضر ہوا تھا، اور عدالت نے خلع کا فیصلہ کرکے میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کر دی، اور شوہر نے اس عدالتی فیصلے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے دستخط کر دیے اور حقِ مہر کی رقم بھی واپس لے لی، اب آپ حضرات سے سوال یہ ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ شرعاً معتبر ہے یا نہیں جبکہ شوہر اپنے وکیل کے ساتھ شروع سے آخر تک عدالت میں بھی حاضر ہوا تھا، اور مہر کی رقم واپس لے کر اپنی خوشی سے خلع نامہ پر دستخط بھی کر دیے تھے؟(کاغذات منسلک ہیں)
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے،جس کی درستگی کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، لہذا صورت مسئولہ میں اگرواقعۃً شوہر نے عدالت میں حاضرہوکرمنہ زبانی یا تحریری طورپرخلع پر رضامندی ظاہر کرکے دستخط کر دیے ہوں تو یہ خلع شرعاََ بھی معتبر ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہو چکاہے، ، جبکہ عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
كمافي احكام القران للجصاص:فأخبر علي أن قول الحكمين إنما يكون برضا الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا أن يرضى الزوج وذلك لأنه لا خلاف أن الزوج لو أقر بالإساءة إليها لم يفرق بينهما ولم يجبره الحاكم على طلاقها قبل تحكيم الحكمين(الى قوله)فلذلك قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع أو في التفريق بغير جعل إن كان الزوج قد جعل إليه ذلك اھ(باب الحكمين كيف يعملان،ج:٢،ص:١٩١،ط:سهيلاكيڈمی)
وفی ردالمختار: (قوله: و شرطه كالطلاق) و هو أهلية الزوج و كون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك و أما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب و القبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، و لا يستحق العوض بدون القبول(بابالخلع،ج:٣،ص:٤٤١،ط:سعید)
و في بدائع الصنائع:وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول(فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة، ج:٣، ص:114، ط: سعيد)