کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ بچی کا نام" ایرا یا منحہ" رکھا جاسکتا ہے؟
"منحہ " (میم کے کسرہ اور نون ساکن کے ساتھ ) کے معنی گفٹ تحفہ کے ہیں ، یہ نام رکھنا جائزہے، جبکہ "ایرا" نام تلاش بسیار کے باجود کسی معتبر لغت میں نہ مل سکا،لہذا لڑکی کے لئے مذکور نام منتخب کرنے کے بجائے ازواج مطہرات اور صحابیات رضوان اللہ علیھن اجمعین کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
کما فی تاج العروس: والاسمُ المِنْحَة، بِالْكَسْرِ) ، وَهِي العَطِيّة، كَذَا فِي (الأَساس)الخ (7/154)۔
و فی الھندیۃ: وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط الخ(5/362)۔