السلام علیکم!
میں اس وقت شدید پریشانی کے عالم میں ہوں۔ 15 دسمبر سے میں اپنے میکے میں مقیم ہوں۔ میرے شوہر اور سسرال والوں نے مجھ پر کئی بے بنیاد الزامات لگائے ہیں، جن کے جواب میں میں نے اپنی سچائی بیان کی اور یہاں تک کہ اپنے بچوں کی قسم بھی کھائی کہ میری جٹھانی اور دیورانی جو الزامات مجھ پر لگا رہی ہیں وہ سراسر غلط اور جھوٹے ہیں۔
میں نے اپنی شادی شدہ زندگی کے 8 سال انتہائی اذیت میں گزارے ہیں۔ شوہر کا رویہ ہمیشہ سے غیر ذمہ دارانہ رہا؛ وہ میرا اور بچوں کا خرچہ تک صحیح سے نہیں اٹھاتے تھے۔ اب جبکہ میں 15 دسمبر سے میکے میں ہوں، انہوں نے میرا اور بچوں کا نان و نفقہ بالکل بند کر دیا ہے۔ جب میں سسرال میں تھی، تب بھی مجھے ہر بات پر سب کے سامنے ذلیل کیا جاتا تھا۔ شوہر مجھ سے الگ سوتے تھے اور میرے بڑے بیٹے کے سامنے مجھ سے جھگڑا کرتے تھے۔ سسرال والے اور شوہر آئے دن مجھے گھر سے نکال دیتے تھے، لیکن میں نے صرف اپنے دو بیٹوں کی خاطر سب کچھ برداشت کیا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ میرے شوہر کی پہلی بیوی بھی تھی جن سے ان کی ایک بیٹی ہے۔ اس خاتون نے بھی ان ہی رویوں کی وجہ سے محض ڈیڑھ سال میں خلع لے لی تھی۔ اب میرے شوہر مجھے بھی یہی کہتے ہیں کہ اپنا سارا سامان یہاں سے اٹھا کر لے جاؤ۔
میرے شوہر اور سسرال والے ماشاءاللہ صاحبِ حیثیت ہیں، اللہ کا دیا سب کچھ ہے اور وہ حج کروانے کی استطاعت بھی رکھتے ہیں، لیکن وہ مجھے عمرہ پر لے کر جانا تو دور، میری بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کرتے تھے۔ الٹا مجھے یہ طعنہ دیتے تھے کہ "تیرے نصیب میں عمرہ نہیں ہے"۔ وہ ذرا ذرا سی بات پر طلاق دینے یا لکھ کر دینے پر تیار ہو جاتے تھے۔
اسی دوران میں نے خواب میں خانہ کعبہ کی زیارت کی اور اب اللہ کے فضل سے 24 جون کو میری اپنی والدہ اور بھائی کے ساتھ عمرہ پر جانے کی سبیل بن رہی ہے۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود میں نے اپنے شوہر سے اجازت مانگی، لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا اور بددعا دیتے ہوئے کہا کہ: "تمہارا عمرہ قبول نہیں ہوگا، میں کبھی اجازت نہیں دوں گا، تم صرف گھومنے جا رہی ہو۔"
میں اس وقت زندگی سے بہت مایوس اور پریشان ہوں کہ ایک طرف سسرال کا یہ ظلم ہے اور دوسری طرف اللہ کے گھر کی بلاوا۔
زندگی میں ایک بار عمرہ کرنا سنتِ مؤکدہ ہے ، لہٰذا سائلہ کےلئے عمرہ کی سفر مىں محرم کے موجود ہونے کے باوجود اس سفر کےلئے نکلنے سے پہلے شوہر سے اجازت لینا شرعاً ضروری ہے ، اور شوہر کو اسے منع کرنے کا اختیار بھی ہے ، البتہ اگر سائلہ شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے بھائى کے ساتھ عمرہ پر جاكر اس كى ادائىگى كرلىتى ہے تو اگرچہ اس کا عمرہ درست ادا ہو جائے گا ، مگر شوہر کی نافرمانی کا گناہ بہر حال ہوگا ، اس لئے اسے چاہیئے کہ وہ شوہر کو راضی کرکے اس مبارک سفر پر نکلے ، تاکہ یہ مقدّس سفر معصیت سے خالی رہ سکے ، جبکہ شوہر کو بھی چاہیئے کہ وہ بلا عذرِ شرعی بیوی کو اس سفر سے نہ روکے ، تاکہ وه اس كى وجہ سے اس عظىم سعادت سے بھی محروم نہ ہو ۔
کما في غنیة الناسک: و هي في العمر مرۃ سنة مؤکدۃ لمن استطاع، ھو المذھب اهـ ( باب العمرة، ص: 196 ط: إدارة القرآن والعلوم الإسلامية كراتشي)
وفي الفتاوى الهندية: (ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا (إلى قوله) وعند وجود المحرم كان عليها أن تحج حجة الإسلام، وإن لم يأذن لها زوجها، وفي النافلة لا تخرج بغير إذن الزوج اهـ [كتاب المناسك، الباب الأول في تفسير الحج وفرضيته ووقته وشرائطه وأركانه، ج:1 ص:218، 219 ط: دار الفكر بيروت]
وفي رد المحتار تحت قوله: (وليس لزوجها منعها) أي إذا كان معها محرم وإلا فله منعها كما يمنعها عن غير حجة الإسلام، ولو واجبة بصنعها كالمنذورة، والتي أحرمت بها ففاتتها وتحللت منها بعمرة فلا تقضيها إلا بإذنه وكذا لو دخلت مكة بعد مجاوزة الميقات غير محرمة لأن حق الزوج لا تقدر على منعه بفعلها بل بإيجاب الله تعالى في حجة الإسلام رحمتي، وإذا منعها زوجها فيما يملكه تصير محصرة كما سيأتي في بابه إن شاء الله تعالى اهـ [كتاب الحج، ج:2 ص:465 ط: سعيد]