کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم 3 لوگوں نے عمرہ کیا، ابو، امی اور میں،ہم نے آپس میں ایک دوسرے کا حلق کر لیا لا علمی کی وجہ سے،2 دن بعد دوبارہ ہم نے عمرہ کیا اور غیر محرم سے حلق کروایا ہے۔ اگر تو دَم لاگو ہے اور ہم دَم دینے کی حیثیت نہیں رکھتے تو کیا کریں؟
حاجی یا معتمر نے حج و عمرہ کے تمام افعال ادا کرلئے ہوں ،صرف حلق کرنا باقی ہو تو ایسی صورت میں حج یا عمرہ کرنے والے ایک دوسرے کے سر کا حلق کرکے حلال ہوسکتے ہیں،لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل اور اسکے والدین نے عمرہ کے تمام افعال ادا کرلیے تھے،صرف حلق کرنا باقی تھا،اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کا حلق کرلیا ہو تو ایسا کرنے سے شرعاسائل اور اسکے والدین پر کسی قسم کا دم لازم نہیں ہوا ،لہذا پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں۔
کما فی غنیۃ الناسک:وان حلق محرم رأس محرم قبل أوان التحلل بأمرہ أو بغیر امرہ فعلیہ صدقۃ، وعلی المحلوق دم۔ ولایتخیر فیہ، وان کان مکرھا، اونائما لانہ عذر من جھۃ العباد … وکذا اذا حلق رأس محرم فعلی الحالق الحلال صدقۃ، کما لو حلق نبات الحرم (ج:1،ص:258،ط:)
و فیھا ایضا :ولو حلق رأسہ أو راس غیرہ من حلال أو محرم جازلہ الحلق لم یلزمھما شیٔ (ص : 174،ط: ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیۃ کراچی)