کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہمارا نکاح (14/4/1999) میں ہوگیا تھا ، شادی کے تین ماہ بعد میرے شوہر باہر ملک چلے گئے اس کے بعد سے اب تک واپس نہیں آئے، نہ مجھے بلایا،نہ نان نفقہ کا معقول انتظام کیا، جس کی وجہ سے اتنا عرصہ صبر کرنے کے بعد میں نے ان سے خلع لینے کا فیصلہ کیا ،اور پھر ایک خلع نامہ تحریر کرکے اس کے پاس بھیج دیا کہ اس پر دستخط کرکے دیدیں،تاکہ معاملہ ختم ہوجائے جس کے جواب میں اس نے یہ تحریر میسج کے ذریعے بھیج دی” میں مسمیٰ اپنی بیوی مسماۃ کو بقائمی ہوش وحواسِ خمسہ بلا کسی جبر واکراہ کے اس کے مطالبہ خلع پر خلع دے کر اپنی زوجیت سے آزاد کرتا ہوں، یہ لکھ دیا تاکہ سند رہے،، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں ہمارے درمیان خلع ہوگیا ہے اور ہمارا نکاح ختم ہوا کہ نہیں، اگر نکاح ختم ہوچکا تو کیا میرے ذمہ عدت لازم ہے، اور اگر عدت ہے تو عدت گزرنے کے بعد میں کہیں اور نکاح کرسکتی ہوں کہ نہیں؟جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
صورت مسئولہ میں سائلہ کے خاوند نے اگر واقعۃ سائلہ کو خلع کے مطالبہ پر سوال میں مذکور تحریر میسج کردیا ہو تو اس سے شرعاً خلع واقع ہوکر دونوں کے درمیان ایک طلاق بائن کے ذریعہ نکاح ختم ہوچکا ہے، جبکہ اس خلع کے بعد سائلہ پر عدت گزارنا بھی شرعاً لازم اور ضروری ہےجس کی ابتدامیسج کرنے کی وقت سے ہی ہوگا،جبکہ عدت گزارنے کے بعد سائلہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ۔
كما في احكام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يمكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والأخروكيل الزوج في الخلع (الى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخر جا المال من ملكها اھ ( باب الحکمین کیف یعملان، ج :2، ص:191،مط:سھیل اکیڈمی لاھور)
وفي المبسوط لشمس الدين السرخسي : (قال) والخلع جائز عند السلطان وغيره لانه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود وهو منزلة الطلاق الخ ( باب الخلع ،ج: 6ص:173،مط:دار الفکر)
وفی التاتار خانیۃ:الخلع عقد یفتقر الی الایجاب والقبول یثبت الفرقۃ و یستحق علیھا العوض الخ(الفصل السادس العشر فی الخلع،ج:5،ص:5،مط:مکتبہ رشیدیہ)