میری والدہ 58 سال کی ہیں اور ماہواری بند ہوےء 10 سال کا عرصہ گزر گیا ہے فلحال میرے والد سے 7مہینے سے علیحدہ ہیں اور خلا لینے کا یقینی ارادہ رکھتی ہیں اس سلسلے میں انکی عدت خلا کے بعد کتنی مدت کی ہوگی۔
سائلہ کی والدہ کواگرحیض آنابندہوچکاہوتووہ شرعاً آئسہ (حیض سے مایوس عورت) کے حکم میں ہیں۔ لہٰذا اگر خلع شرعی طور پر واقع ہوجاتا ہے تو خلع نافذ ہونے کی تاریخ سے سائلہ کی والدہ تین قمری ماہ عدت گزاریں گی، اس کے بعدہی وہ عدت كي پاپنديوں اور کسی دوسری جگہ نکاح كے ليے آزادہوگی۔
کماقال اللہ تعالی فی التنزیل ﴿وَٱلَّٰٓـِٔي يَئِسۡنَ مِنَ ٱلۡمَحِيضِ مِن نِّسَآئِكُمۡ إِنِ ٱرۡتَبۡتُمۡ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَٰثَةُ أَشۡهُرٖ وَٱلَّٰٓـِٔي لَمۡ يَحِضۡنَۚ وَأُوْلَٰتُ ٱلۡأَحۡمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّۚ﴾ [الطلاق: 4]
وفي الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» :والعدة لمن لم تحض لصغر أو كبر أو بلغت بالسن ولم تحض ثلاثة أشهر كذا في النقاية»(1/ 526)